اہم خبریں

پولیس اہلکار اپنے فرائض انجام دیں لیکن شہریوں کی تذلیل کی اجازت کس نے دی؟کیا اتنے اقدام سے شہری کی تذلیل کا مداوی ہو سکے گا؟

316

Cheif Editor PNA

 محکمانہ کاروائی کو نشر کیا جائے اور اس رویے کی معافی بھی مشتہر کی جائے۔۔ کیونکہ شہری کی جو تذلیل ہو گئی اس کا تو مداوا نہیں ہو سکتا۔ عوامی تاثرات

یہ کوئی پہلی دفعہ ایسا نہیں ہوا اس چوکی پر سب سے پہلے تو اس چوکی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے کہ سپریم کورٹ کے ارڈر کے تحت ایسی تمام جگہوں پر چوکیاں یا ٹریفک سیکشن بنانا غیر قانونی ہے پھر اس کے بعد ان کے رویوں پر شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس کا عوام کے ساتھ جو رویہ اور سلوک ہے وہ انتہائی نازیبا اور ناروا ہے۔شہری بھی سواری سے متعلق قانونی دستاویزات اور قوانین کو فالو نہیں کرتے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک پبلک سرونٹ شہری کی اس طرح تذلیل کرے مختلف جگہوں پہ ان کے چیکنگ کے لیئے روکنے کے انداز انتہائی غیر مہذب ہیں۔کچھ عوام وائلیشن کرتے ہیں کچھ عوام ان کی بد سلوکی کے خوف سے وائلیشن کرتے ہیں جیسے رونگ وے ٹریک پہ جانا-

پھر کھلی انکھوں سے کئی بار کا مشاہدہ ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں کہ چالان سے زیادہ چائے پانی پر بحث مباحثے ھوتےھیں-

حکومت جرمانوں کی شرح اس نیت سے بڑھاتی ہے کہ عبرت حاصل ہو اور ائندہ کی وائلیشن سے عوام رک جائے مگر گویا چند ر*** افسران کی چاندی ہو جاتی ہے کہ جرمانوں کی شرح بڑھنے سے چائے پانی کا ریٹ بھی بڑھ جاتا ہے عوام کی حالت یہ ہے کہ قانون پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے رشوت دینے کے عادی ہو چکے ہیں اگر کسی کو یہ مشورہ دو کہ بھائی پورے کاغذات رکھا کرو تو وہ جیب کے ایک نوٹ کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے زندہ باد یہ ہے نا میرا کاغذ خیر وہ تو اور بھی کچھ کہتے ہیں جو ازادی صحافت کے ہوتے ہوئے بھی اداب صحافت کے خلاف ہے۔

جرمانے کی زیادتی سے افسران ڈراتے ہیں عوام فورا غریب بن کے سب سے چھوٹے نوٹ میں جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہے جس سے ر*** ھتک عزت محسوس کرتے ہوئے عموما یہ جملے بول دیتا ہے کہ کیا خیرات دے رہے ہو۔؟

اس قسم کی صورتحال ایسے اداروں اور اس کے شعبوں جو شہری نظم و نسق اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ہیں واضح اشارے دیتے ہیں کہ تربیت کا انتہائی فقدان ہے۔

چند مشہور شاھرائوں کے علاوہ جن پر وی ائی پی بھاگ دوڑ ہے اکثر علاقوں میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کی وجہ سے ہی ٹریفک کا نظام انتہائی دگرگوں حالت میں ہے۔

اس چوکی کے بارے میں عینی شاہدین اور علاقے کے مقامی حضرات جو باتیں بتاتے ہیں وہ بھی نامناسب رویے پر دلالت کرتی ہیں

یہ انتہائی اچھا ہوا کہ افسران بالا نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کی مگر اتنا کافی نہیں کیونکہ جو کچھ وائرل ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ موجود ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیپارٹمنٹل کاروائی کے نام پر فقط خانہ پوری یا نمائشی اقدامات نہ کیے جائیں بلکہ واضح اور بلا تردید ثبوت کے ہوتے ہوئے تنزلی اور تنخواہ روکے جانے یا  تنخواہ کٹوتی جیسے اقدامات شاید معاون ثابت ہوں۔

جب قانون پر عمل کرانے بالوں میں چند کالی بھیڑے سب کو ب** کر نے کا سبب بنیں تو راست اقدامات اٹھانا ضروری ہو جاتے ہیں ایمانداری سے قانون پر عمل کرا کرایا جائے تو عوام کے سدھرنے میں کچھ بھی دیر نہیں لگتی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.