ٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓابنائے ہرمز پر بحرانی صورتحال: کشیدگی بڑھنے کے خطرناک آثار اور حملوں کی ذمہ داری کا معمہ
قارئین کی آراء اور حقائق کی روشنی میں ایک تجزیاتی جائزہ
PNA
چیف ایڈیٹر پی این اے
قارئین کی آراء اور حقائق کی روشنی میں ایک تجزیاتی جائزہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر آ گئی ہے۔ چند روز پہلے جہاں سفارتی کوششوں اور بیانات سے کشیدگی میں کمی کے آثار نظر آ رہے تھے، وہیں آج صورتحال دوبارہ بگڑتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول بتایا جاتا ہے، امریکہ اور اسرائیل تاحال اس اہم آبی گزرگاہ سے آمد و رفت بحال نہیں کروا سکے ہیں، اور خلیجی ممالک سمیت تمام مسلم ممالک اس جنگ سے علیحدہ ہیں۔
آبنائے ہرمز—وہ اہم آبی گزرگاہ جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے—مکمل طور پر بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری ہے، خلیج سے تیل کی برآمد نہیں ہونے دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کی 28 بارودی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے تیل کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز استعمال کریں، مگر عالمی شپنگ کمپنیاں—بشمول Maersk، Hapag-Lloyd، CMA-CGM اور MSC—نے اپنی خدمات معطل کر دی ہیں۔
آج کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، مختلف جگہوں پر میزائل فائر ہوئے ہیں جس سے کئی آئل ٹینکرز کو آگ لگ گئی ہے۔ عراق میں دو غیر ملکی آئل ٹینکرز پر حملہ کیا گیا۔ عراقی پورٹ اتھارٹی کے مطابق، یہ حملے عراقی علاقائی پانیوں میں کیے گئے جس سے دونوں ٹینکرز میں آگ بھڑک اٹھی۔
ان حملوں میں کم از کم ایک عملہ ہلاک ہو گیا ہے، جبکہ 38 کو بچا لیا گیا ہے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ عراق نے اپنی تمام آئل ٹرمینلز کی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔ عراقی جنرل کمپنی فار پورٹس کے سربراہ فرحان الفرطوسی نے بتایا کہ آئل ٹرمینلز کی کارروائیاں مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ کمرشل پورٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
یہ حملے بارودی کشتیوں سے کیے گئے، اور عراق کے بصرہ آئل ٹرمینل کے ایک ملازم کے مطابق، یہ واضح نہیں کہ یہ ڈرون حملہ تھا یا بارودی کشتیوں سے۔ حملے میں نشانہ بننے والے ٹینکرز میں سے ایک مالٹیز پرچم والا زیفائرس اور دوسرا مارشل آئی لینڈز پرچم والا سیفسیا وشNU ہے۔ سیفسیا وشNU کا رجسٹرڈ مالک امریکہ میں قائم کمپنی سیفسیا ٹرانسپورٹ انکارپوریشن ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری کس نے قبول کی ہے؟ کیا ایران نے کھلم کھلا ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، یا پھر یہ مزید کشیدگی بڑھانے کے لیے کسی سازشی عنصر کا کردار ہے؟
ایران نے ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ متعدد بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایرانی حکام نے واضح طور پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے دعویٰ کیا ہے کہ زیرِآب ڈرونز کے ذریعے یہ حملے کیے گئے جس سے "خلیج فارس میں دو آئل ٹینکرز اڑا دیے گئے”۔
ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے تھائی پرچم والے بحری جہاز مایوری ناری پر حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، IRGC نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
یہ بات اہم ہے کہ ایران نے عراق کے علاقائی پانیوں میں ہونے والے حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے۔ عراقی حکام کے مطابق، بصرہ میں ایک عراقی سیکیورٹی ذریعے نے CNN کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ایرانی بارودی کشتی نے ان دو ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کا مؤقف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 11 مارچ 2026 کو دو اہم قراردادوں پر ووٹنگ کی۔ پاکستان نے دونوں قراردادوں میں حصہ لیا اور جنگ بندی کے حق میں واضح مؤقف دیا۔
پہلی قرارداد بحرین کی طرف سے پیش کی گئی جس میں خلیجی تعاون کونسل (GCC) ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی۔ اس قرارداد کے حق میں 13 ووٹ پڑے، جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ پاکستان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور شہریوں، شہری تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے تمام حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
دوسری قرارداد روس کی طرف سے پیش کی گئی جس میں مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قرارداد کے حق میں 4 ووٹ (روس، چین، پاکستان، صومالیہ) پڑے، جبکہ 2 ووٹ (امریکہ، لٹویا) مخالفت میں اور 9 ارکان غیر حاضر رہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "یہ تنازع کبھی ہونا ہی نہیں چاہیے تھا” اور "افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے متفقہ اور جامع ردعمل نہیں دے سکی”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "جب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو امن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، امن کو فروغ نہیں ملتا۔ ہم دشمنی کے فوری اور مکمل خاتمے اور مذاکرات کی میز پر واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ صرف پرامن حل ہی سب کے مفاد میں ہو گا”۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ 28 فروری کو ایران پر غیر ضروری حملوں سے پاکستان بھی متاثر ہوا ہے، دو پاکستانی شہری متحدہ عرب امارات پر حملوں میں جاں بحق ہوئے، ایندھن کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی، اور کئی فضائی روابط منقطع ہو گئے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ حملے محض ایران کی طرف سے ہیں، یا ان کے پیچھے کوئی اور طاقتیں کارفرما ہیں جو چاہتی ہیں کہ یہ جنگ عالمی صورت اختیار کر جائے؟
امریکی مؤقف: امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ "ہم جیت گئے”، مگر ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرینیں بچھائیں تو اسے "ایسی سطح پر نشانہ بنایا جائے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی”۔
عراق کا مؤقف: عراق نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عراقی جوائنٹ آپریشن کمانڈ کے میڈیا سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سعد معن نے کہا کہ "یہ حملہ عراقی علاقائی پانیوں میں ہوا، جو عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے”۔ عراق نے قانونی کارروائی کا حق بھی محفوظ رکھا ہے۔
خلیجی ممالک کا ردعمل: خلیجی ممالک ابھی تک اس جنگ سے علیحدہ ہیں، لیکن کشیدگی ان تک بھی پہنچ رہی ہے۔ کویت، بحرین، امارات سب متاثر ہو رہے ہیں۔ بحرین نے چار بحرینی شہریوں کو ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا، جبکہ دبئی اور ابوظہبی پر بھی ڈرون حملے ہوئے۔
خلیجی ممالک کا تحمل
خلیجی ممالک نے بہت حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ ابھی تک اس جنگ سے علیحدہ ہیں، اور کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حملے بند کرے، مگر خود جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔
کویت نے ایرانی ڈرونز کو اپنی فضائی حدود میں روکا ہے، مگر جوابی کارروائی نہیں کی۔ عمان نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور متاثرہ عملے کو بچانے میں مدد کی ہے۔
تیل کی عالمی منڈی پر اثرات
ان حملوں کے نتیجے میں عالمی تیل منڈی میں قیمتیں دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ برینٹ کروڈ 98.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے—7.44 فیصد اضافہ۔ چند روز پہلے جہاں قیمتیں 88 ڈالر تک گر گئی تھیں، وہیں آج دوبارہ 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے 400 ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ریزرو سے جاری کرنے کی سفارش کی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی بندش ہفتوں تک جاری رہی تو تیل 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے۔
اس وقت صورتحال واضح ہے کہ ایران نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ متعدد بین الاقوامی خبر رساں اداروں—CNN، Reuters، BBC، اور دیگر—نے ایران کے دعوؤں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی ریاستی میڈیا نے بھی ان حملوں کو "کامیاب آپریشن” قرار دیا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حملے ایران کی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ ہیں، یا پھر کوئی اور عناصر اس جنگ کو مزید پھیلانا چاہتے ہیں؟ جواب فی الحال واضح نہیں۔
لیکن اتنا طے ہے کہ خلیجی ممالک اور مسلم ممالک نے بہت حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس جنگ میں کودنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری پر زور دے رہے ہیں۔ پاکستان نے سلامتی کونسل میں دونوں قراردادوں کے حق میں ووٹ دے کر جنگ بندی اور پرامن حل کی حمایت کا واضح پیغام دیا ہے۔
یہ دانشمندانہ مؤقف ہے کیونکہ جدید معیشت میں سب سے مہنگی چیز بارود نہیں، بے یقینی ہوتی ہے۔ اور اس بے یقینی کا خاتمہ صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ممکن ہے، نہ کہ جنگ میں کودنے سے۔
تاہم، ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، اور اس پیچیدگی کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے—تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی غیر یقینی کی صورت میں