اہم خبریں

کسٹم اہلکاروں اور تھانہ منگھوپیر کے کانسٹیبل کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے قصہ کا ڈراپ سین

211

رپورٹ

صحہ خان

رپورٹ

صحہ خان

گزشتہ کچھ ماہ قبل تھانہ منگھوپیر کی حدود میں کسٹم اہلکاروں اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے معملہ کا ڈراپ سین سامنے آ گیا

کراچی کے علاقے نادرن بائی پاس کے قریب 30/10/2020 کو کسٹم اہلکاروں اور تھانہ منگھوپیر کے کانسٹیبل کے درمیان ہونے والی جھڑپ کا قصہ اختتام کو پوھنچ گیا واقعہ میں ملوث کسٹم اہلکاروں کے خلاف مقدمہ عدالتی حکم پر درج کر لیا تفصیلات کے مطابق تھانہ منگھوپیر میں تعینات اہلکار خاور زمان ولد محمد خورشید نے عدالت کو بتایا کہ میں مورخہ 30/10/2020 کو میں اپنے دوست کے پاس نادرن بائی پاس پر قائم ہوٹل پر کھانا کھانے گیا تھا کھانا کھانے کے بعد میں میرے دوست محمد فاروق،اسامہ ملک،اسامہ ریاض،عمیر فرید اپنی اپنی گاڑی میں سوار ہو کر تھانے کی طرف گامزن تھے کہ اچانک ایک سفید رنگ گاڑی نے ہمیں سائیڈ مار دی گاڑی لگنے کے بعد مینے نیچے اتر کر گاڑی کی حالت زار دیکھتے ہوئے کار سوار اشخاص سے نقصان کا تقاضہ کیا جس پر کار سوار افراد نے مشتعل ہو کر مجھ پر اور میرے دوستوں پر رائفل تان لی اور خود کو کسٹم اہلکار ظاہر کر کے مجھے زدوکوب کرنے لگے مینے قانونی کارروائی کے لئے مسلح اشخاص کے خلاف موبائل کے کیمرے سے فوٹیج ریکورڈ کرنے کی کوشش کی جس پر مصلح افراد بھاگ گئے تاہم فرار ہونے کے بعد مینے مسلح اشخاص کا پیچھا کیا کچھ دیر بعد کار سوار اشخاص نادرن بائی پاس کسٹم چیک پوسٹ پر پوھنچے اور گاڑی سے اتر کر مجھے مار پیٹ شروع کر دی مار پیٹ کے دوران مسلح  اشخاص نے میری گاڑی سے میری سرکاری پستول ٩ ایم  ایم بھی نکال لیا اور مشتعل حالت میں ہوائی فائرنگ کا مظاہرہ بھی کیا اہلکار خاور زمان نے بتایا کہ واقعہ کے بعد میں تھانہ منگھوپیر آیا جہاں مینے واقعہ کی اطلاع دی تاہم تھانہ کی جانب سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی بعد ازاں عدالتی احکامات پر5/1/2021 کو کسٹم اہلکاروں جن کے نام افتخار عرف بلا،علی حسنین بلوچ،محمد عماد،عمیر،نعمان،عبدالرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.