اہم خبریں

سابق وزیراعظم عمران خان پر جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے دو بڑے الزامات۔ ایک خاموش تجزیہ

838

PNA/چیف ایڈیٹر کے قلم سے۔

     یہ الزامات صرف سیاسی داؤ پیچ تھےیا حقیقت! 

                                    کسی نے کیا خوب کہا ہے

                *ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے*

                                   دینی مدارس اور عمران خان

عمران خان کے مدارس کے حوالے سےعملی اقدامات اور مولانا فضل الرحمن صاحب کے الزامات کا موازنہ ۔

وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے روز علماء کے ایک وفد سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے مدارس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سماجی ترقی میں مدارس نے جو خدمات انجام دی ہیں، انہیں نظر انداز کر دیا گیا اور مدارس کو دہشت گردی سے بھی جوڑا گیا، جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔پاکستان میں اعتدال پسند حلقے وزیر اعظم کے اس بیان، مذہبی علماء سے ان کی ملاقات اور مدارس میں ممکنہ اصلاحات پر تنقید کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری مبینہ طور پر انتہا پسندانہ تقریر پر تنقید کی زد میں ہیں۔

انہوں نے یہ تقریر حال ہی میں مذہبی جماعتوں کے ایک پروگرام میں کی تھی، جس میں انہوں نے ایک مذہبی اقلیت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔کئی ناقدین کے خیال میں ان کی یہ تقریر مذہبی منافرت پھیلانے کے زمرے میں آتی ہے۔ اس تقریب میں حافظ سعید سمیت کئی جہادی رہنما بھی موجود تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ بدھ  تین اکتوبر کو علماء اور وزیر اعظم کے مابین ہونے والی ملاقات کا اہتمام بھی نورالحق قادری نے ہی کیا تھا۔

(04.10.2018 ڈان حالات حاضرہ)

2..عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنارہا ہے کہ انہوں نے مدارس کے لئے تیس کروڑ کی رقم کیوں مختص کی؟ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مدارس تو دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں، گویا اب دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو قومی خزانے سے نوازا جائے گا۔ اس کے جواب میں عمران خان کا موقف یہ ہے کہ مدارس بھی تعلیم عام کررہے ہیں، روشنی پھیلارہے ہیں، جہالت ختم کررہے ہیں، چنانچہ کالج یونیورسٹیوں کی طرح مدارس کےلئے بھی بجٹ ہونا چاہئے تاکہ ان کی محرومیاں دور ہوں، اور وہ بھی رفتہ رفتہ پوری طرح قومی دھارے میں آسکیں۔

(29/6/2016 انور غازی کا مضمون۔)

جب کے پی کے میں عمران خان کی حکومت تھی۔ اس وقت کا یہ مضمون کا ضروری اقتباس ہے۔

واضح رہے یہ تیس کروڑ کی رقم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے لیے مخصوص کی گئی تھی.

الزام و دعویٰ

عمران خان دینی مدارس کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔

 مولانا فضل الرحمن صاحب کا اسلام آبادجلسے میں خطاب کے دوران دعویٰ.

(28/3/2022 mmnew)     

                                       عمران خان اور اسرائیل

یہ ایک پرانی بحث ہے جو نئے پاکستان میں ایک نئے زاویے سے دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ عوام الناس کو اس بحث کی خبر نہیں کیونکہ یہ بحث اقتدار کے ایوانوں تک محدود ہے۔ پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جن پر انہیں صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت میں بھی خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ ان اقدامات سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہت بہتر ہوئی۔ پاکستان کو صرف بھارت نہیں بلکہ کئی اور بیرونی ممالک کی سازشوں کا بھی سامنا ہے اور ان ممالک میں اسرائیل سرفہرست ہے۔ 26فروری کو بالا کوٹ کے قریب جابہ میں بھارتی ایئر فورس کے حملے کے بعد سے عالمی میڈیا میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اس حملے میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ اسلحہ استعمال کیا۔ مصدقہ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ بھارت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر راجستھان کے راستے سے پاکستان پر ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کو اس حملے کی قبل از وقت اطلاع مل گئی اور پاکستان نے بھارت کو یہ پیغام بھجوایا کہ اگر ہماری سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو بہت بھرپور جواب دیا جائے گا اور یوں بھارت کا یہ حملہ ٹل گیا۔ بھارت اور اسرائیل کے اس ’’پاکستان دشمن اتحاد‘‘ کے تناظر میں کچھ دنوں سے عمران خان کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ ہمیں بھارت اور اسرائیل کا اتحاد توڑنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں۔ عمران خان کو یہ مشورہ 26؍فروری کے بھارتی حملے سے پہلے بھی دیا گیا تھا اور 26فروری کو بھارتی حملے کے بعد بھی دیا گیا۔ مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم آزادی فلسطین کے نمائندے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں، اگر مصر، اردن اور ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان کو بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں اس طرح پاکستان کے خلاف اسرائیل اور بھارت کا اتحاد ختم ہو جائیگا۔ یہ مشورہ اسرائیل نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں نظر آتا ہے۔ عمران خان یہ مشورہ تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دے دیں تو پورے مغرب کے ہیرو بن سکتے ہیں 

لیکن ان مشوروں پر ان کا سادہ سا جواب تھا۔ ’’دل نہیں مانتا‘‘ 

مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو دل کی نہیں بلکہ دماغ کی بات ماننا چاہئے لیکن عمران خان کہتے ہیں کہ میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم کی تائید نہیں کر سکتا ۔ مجھے مشورہ دینے والوں کی نیت پر ذرہ بھر شک نہیں لیکن عمران خان کا جواب سن کر دل کو اطمینان ہوا کہ بہت سی خامیوں کے باوجود عمران خان کسی دبائو اور خوف میں آنے والا سیاستدان نہیں۔ ان کے یوٹرن لینے کی سیاست پر میں نے بہت تنقید کی ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اسرائیل کے معاملے پر یوٹرن نہیں لیں گے*

(ادارتی صفحہ حامد میر 07 مارچ 2019 jang)

۔2۔۔ وزیراعظم کہتے ہیں پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں

( بی بی سی کا 19 اگست 2020 کا اعتراف۔)

یہ انٹرویو عمران خان نے کامران خان کو دیا تھا اور پورے ملک میں سراہا گیا تھا۔

3۔۔آنے والا وقت بتائے گا کہ ان دو سالوں میں عمران خان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کتنا دباؤ ڈالا گیا مگر انہوں نے تسلیم نہیں کیا حامد میر کا اعتراف لنک ملاحظہ کیجیے۔

https://fb.watch/chYP1N0gLo/

کچھ ایسی ہی بات 21 جنوری 2021 کو مولانا فضل الرحمان سے متعلق جیو نیوز نے بھی نشر کی۔

گویا کہ اسرائیل کے بارے میں دونوں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کا ایک ہیموقف تھا 

پھر مولانا فضل الرحمن کا یہ دعوی کے اس کا ایجنڈا اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے یہ عمران خان کی حکومت کے ختم ہونے تک محض ایک الزام ہی رہا۔

الزام و دعویٰ

عمران خان کا اصل ایجنڈا اسرائیل کو تسلیم کرانا ہے. 

مولانا فضل الرحمن صاحب کا 28 مارچ 2022 اسلام آباد جلسے میں خطاب کے دوران دعویٰ ۔

                            ( mmnews.tv )

 

.نیچے کمنٹ باکس میں اپنےرائےکا اظہار فرمائیے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.