خبر یا ہراسمنٹ؟ تحریر جب کردار کُشی کا ہتھیار بن جاٰے
PNA
تحریر شیخ ایم عبداللہ
چیف ایڈیٹر پی این اے نیوز


خبر اور کردار کے درمیان لکیر ــ جب صحافت، قانون اور اخلاق ایک مقام پر آ کھڑے ھوتے ھیں”
جب صحافت تحقیق سے دور ہو کر الزام سازی کا ہتھیار بن جائے— قانون، شریعت اور سماج کیا کہتے ہیں؟
خبر ایک دروازہ ہے مگر۔۔۔۔ حقیقت تک پہنچانے والا نہیں۔
یہ بات آج کے تیز رفتار میڈیا کلچر میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ آج ایک خبر، ایک فیچر یا ایک ’’اسپیشل رپورٹ‘‘ محض چند گھنٹوں میں کسی کی زندگی، ساکھ اور شناخت بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مجھے اس معاملے پر بطور صحافی اور بطور مدیر ہمیشہ ایک تشویش رہی ہے:
کیا ہم خبر کو ثبوت سمجھ بیٹھے ہیں؟
اور اگر ہاں… تو اس غلط فہمی کی قیمت کون چکا رہا ہے؟
اسی سوال کا قانونی، سماجی اور شرعی مختصر تجزیہ پیش خدمت ہے۔
بعض اوقات خبر کی طاقت، سچائی کی کمزوری یا اس پہ پردہ ڈالنے کا سبب بن جاتی ہے
آج کی دنیا میں خبر محض خبر نہیں رہی؛ بلکہ یہ آپ کی ظاہری باطنی ذاتی اجتماعی زندگی کی اچھی بری سماجی پہچان دوسرے لفظوں میں’’سوشل سرٹیفکیٹ‘‘ بن گئی ہے۔
اخبار میں کچھ چھپ جائے تو لوگ اسے ’’حقیقت‘‘ مان لیتے ہیں۔
یہ وہ بنیادی غلط فہمی ہے جو اکثر کردار کشی، ہراسانی اور جھوٹے پروپیگنڈے کی بنیاد بنتی ہے۔
اور کم حیران کن مگر زیادہ خطرناک حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات اس غلط فہمی کا شکار وہ لوگ بھی ہو جاتے ہیں جو قانون اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
مگر عدالتیں ایسا نہیں کرتیں… اور اصولی طور پر شریعت بھی نہیں۔ دنیا کا اچھا انسان قانون کے مطابق چلنے کی کوشش کرتا ہے اور مذہبی ذہن مذہب کے مطابق۔
تجزیہ کا تحقیقی مرکز تین ہی چیزوں پر ہے پاکستانی قوانین برطانوی قوانین اور اسلامی قوانین
1: پاکستان میں اخباری رپورٹ کی قانونی حیثیت
پاکستانی قانونِ شہادت (QSO 1984) کے مطابق اخبار کی خبر “سنی سنائی بات (Hearsay)” ہے۔
عین یہی بات سپریم کورٹ نے PLD 2004 SC 860 میں یوں واضح کی:
اخبار کی خبر مصنف کے بغیر ثبوت نہیں سمجھی جا سکتی۔‘‘
کیوں؟
اسلئے کہ خبر
رپورٹر کے ذرائع پر مبنی ہوتی ہے
،رپورٹر کا مشاہدہ نہیں ہوتی
اس کی خبر “گواہی” کے زمرے میں نہیں اتی اور تصدیق شدہ نہیں ہوتی لہذا قانون شھادت کے مطابق قرار نہیں پائے گی اور جب
خبر ثبوت نہیں فیچر گواہی نہیں خالی کالم یامضمون جرم ثابت نہیں ہوگا فقط الزام ہی رہے گا اور قانونی طور پر بے وزن یہی وجہ ہے کہ عدالتیں ہمیشہ ’’مصنف کی عدالت میں پیشی‘‘ یا ’’اصل ریکارڈ‘‘ مانگتی ہیں۔2: برطانوی قانون کہ اصول سے۔
برطانیہ میں میڈیا طاقتور اور آزاد ہے، مگر عدالت کے نزدیک خبر کی حقیقت محدود ہوتی ہے۔
چند اہم قوانین:
Civil Evidence Act 1995
Defamation Act 2013
دونوں قوانین میں اصولی طور پر ایک بات مشترک ہے
Hearsay cannot form substantive proof of allegation.”
یعنی سنی سنائی سے الزام ثبوت نہیں۔
عدالت مصنف، گواہ، یا اصل شواہد کے بغیر بات ماننے سے انکار کر دیتی ہے۔
اخبار میں الزام لگ جائے تو وہ محض ’’الزام‘‘ رہتا ہے—’’ثبوت‘‘ نہیں بنتا۔
3: شریعت کا اصولی زاویہ۔
پاکستان کا لا ائین کے مطابق قران و سنت کے منافی نہیں ہو سکتا اس لیے پاکستان کے ماحول میں کسی بھی اخباری خبر مضمون فیچر کالم کسی الزام کو جرم میں بدلنے کے لیے یہ سمجھنے کے لیے شریعہ لاء کا یہ پہلو بھی معلوم ہونا ضروری ہے
سب سے پہلے قران مجید کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلے میں کیا رہنمائی دیتا ہے
قرآن مجید تحقیقی اصول کی بنیاد یوں رکھتا ہے:“اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کر لو۔’’ (الحجرات 6)
“جس چیز کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چلو۔’’ (بنی اسرائیل 36)
شریعت میں جس کو قانونی زبان میں شرعیہ لا بھی کہتے ہیں
سنی سنائی بات حجت نہیں
الزام پر الزام بغیر کسی مصدقہ کے گناہ کبیرہ اور ثابت نہ ہونے پر بہتان اور کردار کشی کا زمرے میں ائے گی
اگر معاملہ پاکدامنی سے متعلق ہو یعنی محصن یا محصنہ تو پھر شرعی سزاحدِ قذف ہے
اسلام میں ساکھ، عزت اور کردار کی حفاظت کا درجہ اتنا اونچا ہے کہ بغیر ثبوت کسی پر بات کرنا ’’حرام‘‘ قرار دیا گیا ہے
4: جب خبر ایسی ہو جوکردار کشی کا ہتھیار بن جائے,.
اخباری خبر یا فیچر کی بنیاد پر کسی کی شہرت خراب کرنا مختلف نوعیتوں کے قانونی جرائم میں آتا ہے۔پاکستان میں
Defamation Ordinance 2002
PPC 499–502
اگر آن لائن ہو یا مس انفارمیشن یا ڈس انفارمیشن یا پروپیگنڈا یا بے بنیاد افواہ تو
PECA 2016/2025
برطانیہ میں:
Defamation Act 2013 ہتک عزت
Protection from Harassment Act 1997
Privacy laws (journalistic misuse)
شریعت کی نگاہ میں غیبت،بہتان،تہمت،اجتماعی فساد جن کی بنیاد پرحد قذف تک کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔
یہ وہ سنگین نتائج ہیں جو محض ’’ایک خبر‘‘ کے غلط استعمال سے پیدا ہو سکتے ہیں۔
اور یہ چیز اس وقت سب سے زیادہ قابل مذمت ہو جاتی ہے جب بے بنیاد یا محض خبر کی بنیاد پر کردار کشی کرنے والا یا الزام کو سچ سمجھ کر پھیلانے والا مس انفارمیشن یا ڈس انفارمیشن کہ زمرے میں شامل اگر خود قانون کو جاننے والا سمجھنے والا ہو یا شریعت کا جاننے والا سمجھنے والا ہو تویہ معاملہ یہاں اور نازک ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں:
Legal Practitioners & Bar Councils Act کے مطابق
جھوٹ پر مبنی بیانات ،غلط معلومات پھیلانا،
غیر مصدقہ رپورٹ پر الزام لگاناProfessional Misconduct ہے۔
برطانیہ میںSRA اور BSB
Misleading conduct,
Character attack without proof,
Abuse of legal knowledge,
اوریہ اقدامات براہِ راست لائسنس معطلی تک پہنچ جاتے ہیں۔
شریعت میں علم رکھنے والے کا گناہ ’’دوہرا‘‘ ہوتا ہے۔
دانستہ کردار کشی کبیرہ گناہ ، ظلم ،امانت میں خیانت
چنانچہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی ایسے خبر کو حقیقت سمجھ لینا یہ کس حد تک خطرناک ہو سکتا ہے کیوں اس لیے کہ
خبر ہمیشہ ابتدائی معلومات ہوتی ہے اور ایسی معلومات اکثر تھرڈ پارٹی یعنی ذرائع پر مبنی ہوتی ہے اگر وہ فیچر کی صورت میں کالم کی صورت کے اندر ہو تواس میں کچھ حصہ رائے یا تجزیہ بھی شامل ہوتا ہے اورعدالتیں رائے یا ذرائع نہیں مانتیں بشر دیکھیں عدالتی معیار پر ذرائع کی تصدیق ہو اور عدالت کے سامنے ذرائع ظاہر ہوں۔
کردار کشی معاشرتی زہر ہےاور ایک خبر کی غلط بنیاد پر پوری زندگی تباہ ہو سکتی ہے کیونکہ اکثر اوقات خبر اور الزام میں جو فرق باقی رہنا چاہیے اس فرق کو پس پش ڈال دیا جاتا ہے ہمیشہ خبر اور الزام میں فرق باقی رہنا چاہیےتینوں بڑے نظام پاکستانی قانون، برطانوی قانون اور اسلامی قانون ایک نقطے پر یکجا ہیں
اخباری رپورٹ ’’خبر‘‘ ہے، ’’ثبوت‘‘ نہیں۔اور
سنی سنائی بات پر الزام لگانا جرم ہے۔ قانونی نوٹ: صحافی کا پیش ہونا، ثبوت دینا اور رپورٹ کے مندرجات ثابت کرنا
اہم قانونی نکتہ یہ ہے کہ
تحقیقی صحافت میں ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر یا فیچر اپنی جگہ ایک "انفارمیشن سورس” تو ہو سکتا ہے، مگر بذاتِ خود عدالت میں ثبوت (Evidence) نہیں بنتا۔ دنیا بھر کے قوانین—including پاکستان، برطانیہ اور اسلامی فقہ—اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ:
1) صحافی کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہوتا ہے (پاکستانی و برطانوی قانون)
جب کسی اخبار، میگزین یا ٹی وی کی رپورٹ کو عدالت میں بطور شہادت پیش کیا جاتا ہے تو رپورٹر یا مصنف کو خود عدالت میں پیش ہو کر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ خبر اس نے خود تیار کی اس کے ذرائع (Sources) کیا تھے،ذرائع قابلِ اعتماد تھے یا نہیں، معلومات کس طرح حاصل کی گئیں
رپورٹ کے اندر بیان کیے گئے واقعات حقیقی اور قابلِ تصدیق تھے
عدالتیں صرف "چھپی ہوئی خبر” پر فیصلہ نہیں کرتیں۔
قانونِ شہادت آرڈر 1984 (QSO) کے مطابق ہر وہ بیان جس کے ذریعے ثبوت دیا جا رہا ہو، اس کا دینے والا عدالت میں آنے کا پابند ہے۔
اسی طرح UK Evidence Law (Civil Evidence Act 1995) کے مطابق اخباری رپورٹس بطور hearsay شمار ہوتی ہیں، اس لیے رپورٹر کی گواہی یا corroboration لازمی ہوتی ہے۔
2) Reporter’s Privilege کا غلط استعمال قبول نہیں ہوتا
اگر رپورٹر عدالت میں پیش ہونے سے انکار کرے تو خبر ناقابلِ قبول ہو جاتی ہے
رپورٹ کے مندرجات "صرف ایک دعوے” کی حیثیت رکھتے ہیں
برطانوی عدالتیں ایسے مواد کو "Unproven Allegations” کہتی ہیں۔
پاکستانی عدالتیں اسے "بلا ثبوت الزامات” قرار دیتی ہیں۔
3) کردارکشی کے مقدمات میں صحافی کا بوجھِ ثبوت بہت سخت ہوتا ہے
اگر کسی کی شہرت یا کردار اس رپورٹ کے ذریعے متاثر ہو تو عدالت صحافی سے مزید اونچے معیار کے ثبوت کا مطالبہ کرتی ہے:
documented proof
firsthand witnesses
verified data
audio/video evidence
independent confirmation
اس لیے کردارکشی (defamation)، ہتکِ عزت، یا harassment کے مقدمات میں محض "میگزین میں چھپ جانا” دفاع نہیں بن سکتا۔
4) اسلامی قانون کی روشنی میں: ’’بَیِّنَہ‘‘ (ثبوت) کا اصول
شریعت میں بھی اخبار کی خبر "خَبَرِ واحد” ہے۔
اس کی کوئی حیثیت نہیں جب تک صحیح گواہ یا مستند شہادت پیش نہ کی جائے۔
قرآن:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا
(الحجرات: 6)
حدیث:”البینة على المدعي”ثبوت دعویٰ کرنے والے پر ہے۔اس کے مطابق صحافی کو لازماً خود پیش ہونا،ثبوت دینااورحقائق کی شہادت دیناپڑتی ہے۔صرف ’’میں نے لکھا ہے‘‘ کافی نہیں۔
5) نتیجہ: عدالت میں رپورٹ کی قانونی حیثیت
کسی بھی ریاستی یا دینی قانون کے تحت:
تحقیقی رپورٹ صرف تب شواہد میں شمار ہو سکتی ہے جب صحافی یا رپورٹر اپنے دعووں کو ثبوت کے ساتھ عدالت میں ثابت کرے۔
صرف مضمون، فیچر یا خبر ناقابلِ اعتماد (unreliable evidence) شمار ہوتی ہے
"اخباری ادارے کی ساکھ قانون میں ثبوت کی جگہ نہیں لے سکتی
متاثرہ فرد کا عدالت نہ جانا الزام کو ثابت نہیں کرتا، نہ اسے حقیقت بناتا ہے”
۔ 2018 میں پاکستان کے مشہور صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے ایک دعوے کی بنیاد پر ان کو خود عدالت میں انا پڑا اپنے دعوے کے ثبوت دینے کے لیے اس میں وہ ناکام رہے۔اس وقت کے چیف جسٹس اف پاکستان نے اپنے اختیار سو موٹو کے تحت انہیں طلب کیا تھا شاید پاکستان میں اب سوموٹو تو نہیں ہے مگر عدالتیں موجود ہیں اور ایسی کسی بھی صورتحال کے اندر عدالتوں سے انصاف طلب کیا جا سکتا ہے ۔ دنیا کے کسی بھی قانون کے اندر کسی بھی طور پر عدالتیں صرف واقعے کا ثبوت طلب کرتی ہیں اور ثبوت کی جاب کرتے ہیں نہ کہ خبر چھاپنے والے ادارے کا وقار ساکھ عمر کریڈیبلٹی وغیرہ۔عدالتوں کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا یہ سب ثانوی درجے کی حامل چیزیں ہیں۔امریکہ جیسے ملک کے اندر بھی ثبوت طلب کیے جاتے ہیں نہ کہ ساکھ اور وقار پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی اخبار کی خبر فقط ایک خبر واحد کی حیثیت رکھتی ہے جو صحیح بھی ہو سکتی ہے ضعیف بھی اور جھوٹی بھی جب تک کہ اس کی چھان پھٹک نہ کی جائے اس کی جانچ ناپ تول معیار وہ پیمانوں پہ نہ تولا جائے اس وقت تک وہ فقط مطلق خبر ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
کردار کشی خواہ کسی کی بھی زبان یا تحریر ییا، کسی بھی پلیٹ فارم پر ہ قابل مذمت، قابل تعزیر اور قابل گرفت ہے۔کوئی بھی معاشرہ اسی وقت صحت مند رہ سکتا ہے جب خبر کا احترام تو ہو لیکن حقیقت ، تحقیق کا حق اس سے بڑھ کر ہو۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ
“قلم کی طاقت ذمہ داری مانگتی ہے۔
بے بنیادخبر یا صرف خبر ہر پہلو کا اگر ثبوت بن جائے تو انصاف مر جاتا ہے،
اور اگر الزام بن کر پھیلتی رہ جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے۔
تحریر شیخ ایم عبداللہ
چیف ایڈیٹر پی این اے نیوز۔