اہم خبریں

ایک شہری نے کس طریقے سے حکومت سندھ سے اپیل کی ہے.یہ سوچ اور احساس عوام کی آواز بنتا جا رہا ہے۔

347

PNA REPORT

شہر کراچی کے اندر بڑھتی ہوئی لوٹا ماری موبائل چھیننا بینکوں سے نکل کر رقم چھین بینکوں میں ڈاکے گھروں میں ڈاکے چوریاں اتنی زیادہ عام ہو چکیں ہے کہ اس کے لیے اب کوئی ایسا فورم نظر نہیں آتا جہاں پر داد رسی ہو پولیس اس سلسلے میں بالکل ناکام نظر آتی ہے کامیاب چندکامیاب کارروائیوں کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پولیس شہریوں کے جان اور مال کی حفاظت میں کامیاب ہے۔

 

لوگ اپنی قیمتی چیزوں کو اپنے گھروں میں رکھ کر بینکوں میں رکھ کر بھی مطمئن نہیں ہوتے۔بینکوں میں ڈاکے بینکوں سے نکلتے ہی لوگوں پر ڈاکے.ذرا سی مزاحمت پر گولی مار دی جاتی ہے۔

ڈاکو دندناتے پھرتے ہیں آخر ان اسٹریٹ کرمنلز اور ڈاکو کو اتنی جرات کیسے مل جاتی ہے کہ وہ پوری دیدہ دلیری کے ساتھ جرم کرتے ہیں

 

۔آئے دن خبریں ویڈیوز تصویریں میڈیا میں آتی رہتی ھیں۔شہری یا تو فریاد کرتے نظر آتے ہیں یا جنازے اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
اکثر جگہوں پر تو لوگ اپنے ساتھ ہونے والے ان جرائم کی اطلاع تھانوں کو دیتے ھی نہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اور پھر بہت ساری جگہوں پر پولیس کا رویہ تھانوں کا ماحول وہ بھی عوام کے حوصلے کو پست کرتا ہے۔ افسران سے ملاقات میں دیر ر کنٹو انتظار کرنا ایف آئی آر کاٹنے میں تاخیر ۔

گاڑی چوری میں تو بعض اوقات ایف آئی آر کاٹنے میں اتنی تاخیر کر دی جاتی ہے کہ اگر چوروں کو صوبہ بھی پار کرنا پڑ جائے تو وہ کر سکتی ہے.بس ہنگامی اجلاس ہنگامی فیصلے۔

شہر میں لگنے والے ناکوں اور تابڑ توڑ چھاپوں کے باوجود اسٹریٹ کرمنلز کو پولیس لگام ڈالنے

میں ناکام رہی جس کی وجہ سے 3 ہزار 5 سو موٹرسائیکلیں چوری ہوئیں اور 19 سو ساٹھ موبائل فونز اسلحے کے زور پر چھین لیے گئے۔

صرف جنوری 2021 کے اندر168 گاڑیوں سے شہریوں کو محروم کردیا۔ ڈاکوؤں نے شہریوں سے اسلحے کے زور پر 268 موٹر سائیکلیں بھی چھین لیں۔

مزاحمت پر آٹھ افراد کو قتل کر دیا گیا
اڑتالیس کو گولیاں مار کر زخمی کیا گیا۔
یہ نئے سال کے صرف ایک مہینے کے اعداد و شمار ہیں ہے اس کے بعد کے دو مہینوں میں تو اور بھی زیادہ تیزی آئی ہے۔
عوام جائیں تو کہاں جائیں۔

ایک طرف ملکی معیشت نوکریاں اور آمدنی کے مسائل ایل دوسری طرف صرف لوگوں سے چھینا جھپٹی کی مسلسل وارداتیں

ایک شہری نے کس طریقے سے حکومت سندھ سے اپیل کی ہے
یہ سوچ اور احساس عوام کی آواز بنتا جا رہا ہے۔

۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.