اہم خبریں

مشترکہ اخراجات میں انصاف کیسے حاصل کریں؟ایک سماجی مسلہ

51
  Cheif Editor     

اداریہ                            Editorial

چیف ایڈیٹر( پی این اے )کے قلم سے

تعارف ـ مسئلہ ہر جگہ ہے

چاہے آپ چار فلیٹوں والی چھوٹی بلڈنگ میں رہتے ہوں، دس گھروں کی ایک گلی میں، یا پھر کسی معیاری سوسائٹی میں ! ایک مسئلہ ہر جگہ عام ہے کہ

کچھ لوگ مشترکہ سہولیات سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن جب خرچہ بانٹنے کا وقت آتا ہے تو غائب ہو جاتے ہیں یا اپنی مرضی کی رقم دیتے ہیں۔

اس میں ہر اس پر روشنی ڈالی گئی ہےاور اس منظر کا حل دیا گیا ہے جو آپ کو کسی بھی رہائشی نظام میں پیش آ سکتا ہے۔جب میں یہ مضمون لکھ رہا تھا تو کافی سارے مرحلے سامنے تھے ۔تو اس کو آٹھ عملی حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ ہر ایک کے لیے مضمون یکساں فائدےمند ھو۔

پہلا حصہ مسئلہ کی پہچان

کون سی چیزیں مشترکہ ہوتی ہیں؟

۔ صفائی (گلی، سیڑھیاں، عام جگہیں)

· عام بجلی (راستے، سیڑھیاں، لفٹ کی لائٹ)

· پانی کی موٹر کی ریگولر سروس

· لفٹ کی معمولی مینٹیننس

· سیکیورٹی گارڈ (اگر ہو)

· سیوریج اور نالیوں کی صفائی

· مشترکہ ٹینکی، بورنگ

اور سوسائٹی محلے سطح کے مشترکہ محدود اور غیر محدود کام وغیرہ

یہ ایک بنیادی اصول ھے کہ "جس چیز کا فائدہ سب کو پہنچتا ہے اس کا خرچہ بھی سب پر ہی پڑتا ہے”خواہ وہ اسے براہِ راست استعمال کریں یا نہ کریں- ذاتی ملکیت کی چیزیں اس میں شامل نہیں یہ کسی چیز کے حق استعمال سے مکمل دست برداری ہو تو علیحدہ بات ہے۔

اس ضمن میں عام طور پر تین طرح کے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں

1. دینے والے( کہیں اقلیت کہیں اکثریت )جو ہر بار پورا حصہ دیتے ہیں۔اور نہ دینے والوں کی وجہ سے ان پر پورا بوجھ آ جاتا ہے۔

2. بچنے والے (جن کے لیے سب سے صحیح لفظ بھرم باز)جو کبھی نہیں دیتے، یا کم دیتے ہیں، اور طاقت/تعلقات کا کارڈ کھیلتے ہیں۔

3. خاموش ( دوغلے)جو پیٹھ پیچھے بڑبڑاتے ہیں غصہ نکالتے ہیں تبصرے کرتے ہیں، مگر سامنے کچھ نہیں کہتے اور آل از ویل کا سمبل بنے رہتے ہیں۔

دوسرا حصہ !چھوٹا خرچہ اور بڑا خرچہ ( ہر گھر والے کو معلوم ہونا چاہیے چاہے وہ مالک مکان ہو یا کرائے دار ہو کہ کس خرچے کی ذمہ داری کس پر ہے مالک مکان پر کیا ہے اور کرائے دار پر کیا ہے)اس کی مثالیں جیسے

چھوٹا / روزانہ بلب، پنکھے کی سوئچ، نلکے کی واشر، فیوز جیسے چھوٹے خرچے جیسے چھوٹے خرچے کرائے دار پر (اگر فلیٹ کرائے پر ہے)

مشترکہ مینٹیننس صفائی کا عملہ، عام بجلی، موٹر کی سروس، لفٹ مینٹیننس تمام یونٹس (فلیٹوں مکانوں ں دکانوں کی تعداد کے حساب سے)

بڑا کیپٹل ریپیر پانی کا پمپ خراب ہونا، چھت کا لیک ہونا، لفٹ کی موٹر تمام مالکان محلے کا کوئی بہبود کا کام ہونا کوئی تعمیری کام ہونا جیسے روڈ بننا گلیاں بننا گٹر لائنیں ڈالنا (کرائے دار نہیں، وہ مالک سے وصول کریں گے)

"یاد رکھیں: بڑے خرچے میں بھی حساب یونٹس کی تعداد کے مطابق ہوگا۔ اگر ایک مالک کے پاس 2 فلیٹ ہیں تو وہ 2 حصے دے گا.”

تیسرا حصہ: سب سے بڑی رکاوٹ! کچھ ایسے لوگ جو کنٹریبیوشن نہیں کرتے مگر بھرم بازی جیسا رویہ ضرور رکھتے ہیں (اکڑ دکھانے والے،انتظامیہ سے یا سیاسی سطح پر اپنے تعلقات حجت لانے والے)

ایسے لوگ لوگ براہِ راست انکار نہیں کرتے، بلکہ یہ کہتے ہیں:

"تم جانتے ہو میرا کون سے محکمے میں تعلق ہے؟”

· "میں نے بڑی سوسائٹیاں سنبھالی ہیں”

· "میرا فلاں چیئرمین سے دوستی ہے”

"یا یہ کہ میں قانون جانتا ہوں "

"”یا کوئی بھی ایسا انداز جس سے ادائیگی کنٹریبیوشن نہ کرنے کا پہلو چھلکتا ہو”ان سے نمٹنے کا طریقہ یہ ھے سب سے پہلے تو

1. بغیر جھکے، بغیر لڑے ثابت قدم رہیں اور مہذب انداز میں ان سے بات کریں

"سر، آپ کا تجربہ قابل احترام ہے، لیکن یہ اصول کا معاملہ ہے، حیثیت کا نہیں۔”

2. بات کو تحریر میں لے جائیں

"آپ جو کہہ رہے ہیں، میں تحریر میں لے آؤں؟ تاکہ مستقبل میں الجھن نہ ہو؟”

3. انہیں لیڈر بنا دیں.

"آپ ہمیں بتائیں کہ آپ کے مطابق کیا منصفانہ ہے؟”

(جب لیڈر بنا دیا جائے تو خود کو انصاف پسند ظاہر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں( مگر کبھی کبھی ایسا آپشن ایسے سب کے حق میں نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے تو اس کنڈیشن کو سوچ سمجھ کے اپلائی کریں)

4. سب کو متحد کریں۔

جب کسی ایسے ادمی کوکو پتہ چلے کہ باقی سب آپ کے ساتھ ہیں، تو اس کی اکڑ خود بخود گر جاتی ہے۔

چوتھا حصہ ـجب کلیکشن کرنے والے خود کسی پھنےخان کے ساتھ مل جائیں (یا اس کے سامنے بے بس ہوں)

یہ سب سے مایوس کن صورتحال ہے۔ کلیکشن کرنے والے (عارضی یا مستقل) کہتے ہیں:

· "یار، وہ صاحب مانتے ہی نہیں، ہم کیا کریں؟”

· "100% کلیکشن کہیں نہیں ہوتی، جو دے رہا ہے اس سے لے لو”

· اور ساتھ ہی دینے والوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ "تم دو، ورنہ کام نہیں ہوگا”۔

اس کا کیاحل ھے؟

1. کلیکشن کرنے والے اگر باقاعدہ باضابطہ قائم شدہ کمیٹی کے ہو تو ان سے بات کریں کہ

"آپ کا کام صرف وصول کرنا نہیں، بلکہ انصاف قائم کرنا بھی ہے۔ اگر آپ ایسے آدمی سے وصول نہیں کر سکتے تو پھر آپ اس کمیٹی یاعہدے کے لیے موزوں نہیں۔”

2. فیصدی کلیکشن کا فلسفہ توڑیں کیونکہ

"اگر آپ ایک کو چھوڑ دیں گے تو دوسرا بھی چھوڑ دے گا۔ پھر صرف 2-3 لوگ سارا خرچہ اٹھائیں گے۔ اور میں بھی دینا بند کر دوں گا۔”

3. ناموں کی فہرست لگائیں بنائیں انفرادی میسج کریں اگر کوئی مشترکہ واٹس ایپ گروپ ہے اس میں ڈالیں مینٹیننس گروپ میں ڈالیں اگر نوٹس بورڈ یا دیوار وغیرہ ہو تو اسپر پر پرچہ لگائیں

"اس ماہ فلاں فلیٹ نے دیا، فلاں نے نہیں دیا”

نام لکھنے کا خوف ایسے ادمی کو بھی ہلا دیتا ہے۔

(اس میں ایک صورتحال ایسی بھی پیش اتی ہے کہ کمیٹی والے یا سوسائٹی والا یا اپنی مدد اپ کے تحت کام کرنے والے لوگ ان تجاویز یا دیگر کرامت تجاویز سے گریز کریں تو یہ پہلو بھی ہو سکتا ہے کہ ملی بھگت ہو۔)

4. متبادل نظام بنا دیں اہم قدم ہوتا ہے

اگر کلیکشن کرنے والے ملے ہوئے ہیں تو باقی دیانتدار لوگوں کو اکٹھا کریں اور اعلان کریں ۔

"ہم نیا گروپ بنا رہے ہیں۔ پرانا سسٹم ختم۔ اب ہم خود کلیکشن کریں گے۔”

یہ صورتحال اور یہ اعلان بہت فائدہ مند ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں ایک سماجی کمزوری ہے اب وہ یہ کہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ جیسا ہو رہا ہے ہونے دو،چلنے دو اس سے کچھ نہ کچھ گزارا تو ہو رہا ہے نا! یا یہ سوچ ہے کہ یار ہم کیسے کریں گے ہم تو کاروباری لوگ ہیں ہمیں کام پر جانا ہوتاھے ہمارے تو تعلقات بھی نہیں ہیں ہماری کوئی سیٹنگز بھی نہیں ہے یعنی انکی سیٹنگز ہیں ان کے تعلقات ہیں حالانکہ یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کام سیٹنگز کے نہیں بلکہ حقوق کے ہیں حقوق کی جنگ کے اندر سیٹنگز نہیں دیکھی جاتی بلکہ پیپر ورک پراپر ورک اور اواز اٹھائی جاتی ہے احتجاج کیا جاتا ہے حق مانگا جاتا ہے ان فورموں کو استعمال کیا جاتا ہے جو اپ کو حق دلانے میں معاون ہو۔ایسی سست سوچ کے ساتھ یہ خطرناک صورتحال پیش اتی ہے کہ کچھ لوگ سسٹم پر ہمیشہ حاوی رہتے ہیں اور اپنی سوچ کے مطابق چلاتے رہتے ہیں یہیں سے کرپشن بھی جنم لیتی ہے یہیں سے ظلم بھی جنم لیتا ہے اور یہیں سے اقرباء پروری بھی۔اسی لیے متبادل کا تصور ہر وقت رہنا چاہیے جس میں پڑھے لکھے قانون کی سمجھ والے اور غیر متنازع چہرے ہوں۔

پانچواں حصہ: خاموش اور دوغلے لوگ !انہیں کیسے بیدار کریں؟

یہ وہ لوگ ہیں جو منہ پر کچھ نہیں کہتے، پیٹھ پیچھے بڑبڑاتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ برے بنیں اور وہ اچھے بنے رہیں۔ ایسے لوگ خود سامنے نہیں اتے بلکہ دوسروں کو اکساتے ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ اپ اگے ائیں ہم اپ کے پیچھے ہیں مگر وہ پیچھے نہیں ہوتے۔اچھا بننے یا نظر انے کے سوچ کے ساتھ وہ غلط لوگوں کے سہولت کار بھی بن جاتے ہیں

اس کا حل کیا ہے؟اس کا تجرباتی حل یہ ہے کہ

1. ان کے پاس تنہائی میں جائیں اور کہیں:

"آپ تو پیٹھ پیچھے بڑبڑاتے ہیں، سامنے کچھ کیوں نہیں کہتے؟ آئیے مل کر ایک سوچ پر متفق ہوں ایک پرچے پر دستخط کر دیں۔”

2. انہیں بتائیں کہ خاموشی سے ان کا بھی نقصان ہو رہا ہے:

"جب کوئی اپنی معاشی مجبوری کے بجائے اکڑ بازی یا تعلقات کا ڈراوادے کر اپنا حصہ نہیں دے گا یا کم دے گا تو باقی حصہ آپ کو دینا پڑے گا۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا پیسہ بچے؟ تو بولئے۔”

3. دستخط مہم شروع کریں،

ایک سادہ پرچہ بنائیں: "ہم مشترکہ اخراجات کو یونٹس کی تعداد کے حساب سے تقسیم کرنے کے حامی ہیں”

جتنے دستخط ہوں گے، اتنا ہی اس معاملے کا اثر پڑھے گا اور مشترکہ اخراجات یا کنٹریبیوٹری کا نظام بہتر ہوگا ۔

چھٹا حصہ: اس حصے کا تعلق عملی عملی اقدامات سے ہے (مگ اس کورمرحلہ وار کیا جائے)

مرحلہ 1-تحریری نظام لائیں

ہر مہینے کا خرچہ چاہےمستقل کمیٹی ھو یاناہو یا کچھ لوگوں نے مل کر ہی محلے کے کسی تعمیری کام کو مکمل کرایا ہو کسی صورت میں اگر کسی نے کوئی کام کرایا ہو تو خرچ کا پورا حسا ب کتنا وصول ہوا اور کتنا خرچ ہوا اور کتنا بیلنس ہے کاغذ پر لکھیں اور دیوار یا جس طریقے سے بھی کلیکشن کی تھی اسی طریقے سے سب کو وہ حساب بھجواتے ہیں اج کل سب سے بہترین ذریعہ اطلاع عامہ کا واٹس ایپ ہے متعلقہ لوگوں کی واٹس ایپ نمبر پر بھیج دیں یا سوسائٹی کا کالونی کا کوئی گروپ ہے تو اس میں بھیج دیں۔

مثال: "کل خرچہ 8000 روپے۔ 4 فلیٹ = 2000 فی فلیٹ”

مستقل کمیٹی نہ ہونے کی صورت میں اور مستقل مصارف نہ ہونے کی صورت میں بقایاجات باقاعدہ پوری دیانت داری کے ساتھ واپس کر دیے جائیں.

مرحلہ 2: "خدمت” کا کارڈ ختم کریں یہ اگے چل کے نفسیاتی بلیک میلنگ پیدا کرتی ہے لوگ ڈیپینڈنٹ ہو جاتے ہیں اور ایسے خدمت کارڈ استعمال کرنے والے اپنی خدمات کو بلیک میلنگ میں استعمال کرتے ہیں۔اداروں میں ذاتی نوعیت کے تعلقات ہو جانے کی بنیاد پر ذاتی مفادات کا کھیل بھی شروع ہو جاتا ہے۔اور ایسی صورتحال میں عموما ایسے سوسائٹیوں محلوں وغیرہ میں جائز کے ساتھ ساتھ ناجائز بھی شروع ہو جاتا ہے اور

یہ مرحلہ بڑا عجیب ہے بہت سارے لوگ اس دعوے کے ساتھ خدمات سرانجام دیتے ہیں کہ جی ہمارا کوئی دنیاوی مالی مفاد نہیں ہے بہت اچھی بات ہے بغیر مالی مفاد کے بغیر اپنی غرض کے خدمات کو سرانجام دینا یہ بڑا نیکی کا کام ہے مگر دیکھنے میں یہ اتا ہے کہ پھر بھی کہیں نہ کہیں وہ فوائد حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ان کے رویے اس بات کو طے کرتے ہیں کہ وہ فی سبیل اللہ خدمات دینے کے بجائے ایک ڈکٹیٹر شپ اونرشپ سٹائل اختیار کر گئے ہیں۔

بلکہ بعض جگہوں پہ ان کے رویے پراسرار ہو جاتے ہیں۔اس لیے "خدمت کارڈ کا عنوان” ختم کر دینا چاہیے ڈلیور اینڈ پے کا اصول رکھنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات ایسے "خدمت "کرنے دیکھا یہ اندیکھا فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں اور اس کا اثر کنٹریبیوشن یا مشترکہ اخراجات کی وصولی ادائیگی میں کہیں نہ کہیں ظاہر ہوتا ہے جیسے

اگر کوئی کہے "میں پانی بھرتا ہوں، تو میرا حصہ کم کرو یا کم ہونا چاہیے یا مجھ سے کیوں لیتے ہیں میں تو خدمات بھی دیتا ہوں” یہ صورتحال سوسائٹی کی سطح پر بھی پیش ا سکتی ہے اور انفرادی رہائشی بلڈنگوں میں بھی تو جواب دیں ٹھیک ہے اپ فی سبیل اللہ خدمات نہ دیں

"ہم ایک چوکیدار رکھ لیں گے یا دیکھ بھال والا رکھ لیں گے جو مینٹیننس کے امور کو دیکھے گا (اگر سوسائٹی کی سطح پر ہے تو کئی افراد بھی ہو سکتے ہیں اگر ایک بلڈنگ ہے تو ایک فرد بھی ہو سکتا ہے)، اس کی تنخواہ سب پر تقسیم ہوگی۔ پھر سب برابر دیں گے۔”

مرحلہ 3 کسی بھی اکڑ بازی یا دھمکی والی شخصیت کی باتوں کو کو تحریر پر لائیں

اسے کہیں کہ وہ اپنی شرائط لکھ کر دے۔ کہ وہ مجموعی اخراجات کے اندر اپنا حصہ کن وجوہات کی بنیاد پر نہیں ملا رہا۔

مرحلہ 4: کلیکشن کرنے والوں یا متعلقہ کمیٹی سے بات کریں کہ کیا کریں اور ان سے کہیں

"اگر کسی کی مالی مجبوری ہے تو علیحدہ بات ہے ورنہ یا تو سب دیں گے، یا میں بھی نہیں دوں گا۔ پھر دیکھتے ہیں کسے زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔”

مرحلہ 5ـ ان ناموں کی فہرست بنائیں

اور لوگوں کو اگاہی دیں لکھیں کہ کس نے دیا، کس نے نہیں دیا۔ شرمندگی کام کرتی ہے۔

مرحلہ 6: قانونی نوٹس ( یہ اخری آخری حل ھے) مگر تھوڑی تفصیل کے ساتھ اگر سوسائٹی محلہ یا ٹاؤن کی سطح کا معاملہ ہے اور وہاں باضابطہ قانونی کمیٹی موجود ہے تو ان کو مخاطب کریں۔اگر اپ کی ذاتی رہائش گاہ یا بلڈنگ کا تو مینجمنٹ سے بات کریں اگر مینجمنٹ تو مینجمنٹ بنائیں اگر وہ بھی نہ بنے اور انفرادی خدمات ہوں اخلاقی شرعی اور قانونی طور پر جتنا اپ کا حصہ بنتا ہے اتنا اپ ضرور ملائیں نہ زیادہ نہ کم۔۔

اگر کچھ کام نہ آئے تو تحریری نوٹس لگا دیں

"15 دن میں نظام نہ بدلا تو معاملہ آر ڈبلیو اے / سوسائٹی رجسٹرار / سندھ کاپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ایکٹ /مقامی عدالت میں لے جایا جائے گا۔”

سندھ کاپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ایکٹ یا کنٹونمنٹ بائی لاز کسی بھی قانونی کمیٹی کے لیے یا مفاد عامہ کے تحت کیے ہوئے کام کے اخراجات کے طلب کرنے میں قانونی رہنمائی موجود ہے اور اسی طریقے سے خرچ کی شفافیت اور بتایا جات کی تفصیلات طلب کی جا سکتی ہیں۔

جو کبھی کرنی بھی چاہیے۔کیونکہ حساب اور احتساب سے کوئی بھی ماورا نہیں۔

ساتواں حصہ: ایک اہم اصول (جو ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھیں)

1. فائدہ جہاں مشترکہ ہو، خرچہ بھی مشترکہ ہوگا۔

2. یونٹ جتنے ہوں، حصے اتنے ہوں گے۔ (4 فلیٹ ہیں تو 4 حصے، 8 ہیں تو 8 حصے)

3. کسی بھی قسم کی "خدمات” کسی کے بنیادی حصے یا مشترکہ اخراجات میں شمولیت کی ذمہ داری کو ختم نہیں کر سکتی۔

4. بھرم اور طاقت کے حوالے صرف اس وقت تک چلتے ہیں جب تک سامنے والا خاموش رہے۔

5. تحریر سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

آٹھواں حصہ- خلاصہ یاد رکھیں

اگر آپ آج تک خاموش رہے ہیں تو آج سے ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں۔ اگر کہیں پریشانی ہے کسی علاقے میں کسی رہائشی پروجیکٹ میں تو ہم اہنگی پیدا کریں جو کام ہم اہنگی سے مکمل ہوتا ہے اس میں پائیداری ہوتی ہے باوجود کوشش کی ہم اہنگی نہ ہوں تو اپنے حق کے لیے مضبوط رہیں

یاد رکھیں خاموشی سے زیادہ مہنگی کوئی چیز نہیں۔

انصاف کی قیمت ادا کرنا آسان ہے، لیکن اس کی عدم موجودگی کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔

·جب آپ کھڑے ہوں گے تو آہستہ آہستہ دوسرے بھی آئیں گے۔

آپ کا حق ہے کہ آپ صرف اپنا حصہ دیں، کسی اور کا بوجھ نہ اٹھائیں۔

      Cheif Editor



 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.