اہم خبریں

کھارادر ٹریفک چوکی کی حدود میں عوام اور ٹریفک پولیس میں تلخ کلامی ہم پارکنگ کہاں کریں؟ عوام کا سوال

304

PNA Report

کراچی میں لاقانونیت سے جرائم پیشہ افراد ہی سے منسوب نہیں بلکہ قانون کے رکھوالوں سے بھی لاقانونیت کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔کراچی میں ایک بہت بڑا مسئلہ ٹریفک پارکنگ ہے شدید ازدحام میں کسی بھی جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کوئی بھی قانونی پارکنگ کا انتظام نہیں ہے انتہا تو یہ ہے کہ انتہائی پبلک ایمرجنسی مقامات پر بھی پارکنگ کا کوئی انتظام نہیں نہ اسپتالوں کے باہر نہ شاپنگ پلازہ کے باہر پارکنگ کی سہولت میسر ہے

شہریوں کو ہر وقت خوف لگا رہتا ہے کہ جس جگہ بھی پارکنگ کی ٹریفک پولیس والے یا ان کے کانٹریکٹراٹھا کے لے جائیں گے کاروباری مراکز کے اندر جانے والا ایمرجنسی کے اندر اسپتالوں میں جانے والا بے چارہ مارا مارا پھرتا رہتا ہے کہ اس کو پارکنگ کہاں ملے گی کہیں وہ پر پارک کردے کا بورڈ بھی نہ لگا ہو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ یہ نو پارکنگ کی جگہ ہے تو اس کی بائیک ٹریفک پولیس کےکانٹریکٹراٹھا کے لے جاتے ہیں۔البتہ اتنی مبینہ غیرقانونی سہولت ضرور میسر ہے اور اسکو کوئ لا قانونیت کہے یا عوامی سہولت کہ انہیں نوپارکنگ کی جگہوں پر کچھ مافیاز ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں ان کو بغیر رسید کے آپ گاڑی یا بائیک حوالے کردیں پچاس روپے سو روپے ڈیڑھ سو روپے کی پارکنگ دستیاب ہو جاتی ہے

 

یہ ویڈیو بھی عوام کی اسی پریشانی اور قانونی اداروں کی مبینہ لاقانونیت یا بے توجہی کی ہے کہ اسکوٹر گاڑیاں اٹھا لی جاتی ہیں اور پھر اس کے بعد ایک مخصوص رقم چالان، لفٹنگ کے نام پر وصول کرکے گاڑی واپس حوالے کی جاتی ہے اس درمیان کسی بھی ٹوٹ پھوٹ کی ذمہ داری ٹریفک پولیس یا ان کے کانٹریکٹوں کی نہیں ہوتی۔

حد تو یہ ہے کہ جن جگہوں پر نوپارکنگ سمجھ کے آدمی گاڑی نہیں لگاتا وہاں بھی کچھ لوگ کھڑے ہوتے ہی جو پیسے لے کر گاڑی کو پارک کرواتے ہیں۔

عوام میں یہ تاثر عام ہےکہ ایسی جگہوں سے گاڑی لفٹ نہیں کی جاتی بلکہ محفوظ رہتی ہےشہر کے تمام شاپنگ مال، کاروباری مراکز، دفاتر، مارکیٹس اور تفریحی مقامات کے قریب ’پارکنگ مافیا‘ کا راج ہے، جو ایک باضابطہ طور پر وضع کردہ نظام کے تحت اپنا دھندہ کرتے ہیں جس میں انہیں مبینہ طور پر سرکاری اہلکاروں کی سرپرستی اور ساتھ حاصل ہوتا ہے۔ ’پارکنگ مافیا‘ کام کیسے کرتا ہے وہ آپ کے گوش گزار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر

کراچی کے اھم کاروباری مرکز صدر کے وسط میں واقع ہے پاسپورٹ آفس

۔ پاسپورٹ آفس سندھ ہائی کورٹ کے عقب میں واقع ہے، اس سے متصل صدر کی صرافہ مارکیٹ ہے، یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ گاڑیوں میں آتے ہیں۔ پاسپورٹ آفس کے سامنے نیب اور ایف آئی اے کے دفاتر بھی ہیں۔

پارکنگ سپاٹ میں موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 10 روپے سے زیادہ نہیں لیکن ہر جگہ زبردستی 20 روپے لیے جاتے ہیں (فوٹو: سوشل میڈیا)

حکومت کی جانب سے یہاں نو پارکنگ کے بورڈ آویزاں ہیں اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے سڑک پر گاڑی پارک کرنے کی بھی سخت ممانعت ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو گاڑیاں یہاں روز آتی ہیں وہ پارک کہاں ہوں۔ حکومت کی جانب سے پارکنگ کا کوئی متبادل اور معقول انتظام نہیں۔

اس سب میں آپ کی مدد کو ’پارکنگ مافیا‘ آتا ہے، آپ ویسے گاڑی یا موٹر سائیکل اس سڑک پر پارک کرکے جائیں تو ٹریفک پولیس اہلکار اسے اٹھا لے جائیں گے، مگر وہیں پر اگر آپ غیر قانونی پارکنگ کا کاروبار چلانے والے کسی کارندے کو کہہ دیں تو اسی جگہ پورا دن گاڑی کھڑی رہے گی، کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں پارکنگ کی مد میں روزانہ ایک کڑوڑ سے زائد آمدنی ہوتی ہے۔

اپریل 22 2021 میں تو یہاں تک کہ خبر چھپی کہ ریڈ زون جیسے انتہائی حساس علاقے میں پارکنگ مافیا کا راج قائم ہوگیا۔ 

جبکہ کچھ عرصہ پہلے اس مافیا کے کارندوں نے علاقے کی رہائشی گلیوں میں پارکنگ فیس کی وصولی شروع کر دی تھی اور پھر علاقے کے لوگوں کی جانب سے انتہائی سخت احتجاج کے بعد وہاں سے بھاگنے پر مجبور ھوئے

فٹ پاتھ پر پارکنگ جو لوگوں کے چلنے کی جگہ ہے نوپارکنگ زون میں پیسے دے کرپارکنگ نہ اسٹاف کا کوئی لباس نہ کوئی ٹکٹ نہ کوئی رسید نہ کوئی ان کی شناخت بس ایک سیٹنگ کے ساتھ سب کچھ چل رھا ھے.

اوپر بیان کیا گیا بزنس ماڈل تقریباً تمام کراچی میں رائج ہے، کاروباری مراکز اور دفاتر کے قریب ہر سڑک پر غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے جس کی کوئی لکھت پڑھت نہیں ہوتی۔ شہر کے جن مقامات پر انتظامیہ کی جانب سے پارکنگ فیس لاگو کی گئی ہیں، وہاں بھی ’پارکنگ مافیا‘ زائد فیس وصول کرتا ہے۔

عوام کا گورنمنٹ سے یہ مطالبہ ہے کہ  ایک بڑی وجہ اس کی یہ بھی ہے کہ ناجائز تجاوزات والوں نے روڈوں کو گھیر رکھا ہوتا ہے اس وجہ سے پارکنگ کا مسئلہ بڑھتا ہی جا رہا ہےایمرجنسی کی جگہوں پر اور کاروباری جگہوں پر پارکنگ مخصوص کی جائے نوپارکنگ اور پارکنگ کی جگہوں کے بورڈ واضح کئے جائیں کراچی میں ٹریفک ک پارکنگ کی سہولیات زیادہ سے زیادہ دی جائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.