اہم خبریں

سرکاری عہدے کا نجی تنازعات میں استعمال قانونی، اخلاقی اور انتظامی جائزہ

122

  چیف ایدیٹركے قلم سے

بنیادی نکتہ

ہمارے معاشرے میں كیا ایک ایسا رویہ پنپ رہا ہے جس پر شاید ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ مثلا ایک شخص اپنے پڑوسی کے گھر جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، اور جب گھر سے کوئی خاتون باہر آتی ہے تو وہ اپنی بات شروع کر دیتا ہے۔ گھر میں مرد موجود نہیں، وہ کام پر گیا ہوا ہے، یہ عام سی بات ہے، دن کے اوقات میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب گھر میں مرد موجود نہ ہو تو کیا خواتین سے اس انداز میں بات کرنا مناسب ہے؟ اگر کرنی ہی ہے تو کیا اس کے لیے کوئی اصول، کوئی حد، کوئی پروٹوکول نہیں ہونا چاہیے؟
اگر یہ شخص اپنی شکایت لے کر آیا ہے، کوئی پیغام چھوڑنا چاہتا ہے، کہہ رہا ہے کہ جب فلاں صاحب آئیں تو انہیں بتا دیجیے گا کہ میں آیا تھا، یہ نمبر ہے، مجھ سے رابطہ کر لیں۔ یہ سب ٹھیک ہے، اتنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن پھر وہ ایک اور بات اٹھاتا ہے، کہتے ہیں کہ آپ کے گھر پر سولر لگا ہوا ہے۔ اب ذرا سوچیں، سولر لگا ہونا کیا کوئی جرم ہے؟ یہ تو مکمل طور پر ایک ذاتی معاملہ ہے، ایک نجی انتخاب ہے۔ اس پر اعتراض اٹھانے کا کیا جواز بنتا ہے؟ اور اگر كوٰیؑ جاؑیز اعتراض اٹھانا ہی ہے تو کیا اس کے لیے گھر کی خواتین سے بات کرنا ضروری تھا؟ جب گھر کا مرد موجود نہ ہو تو اس قسم کی بات چیت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
یہاں ایک اور پہلو سامنے آتا ہے جو اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ جب گھر کی خاتون اس سے پوچھتی ہے کہ بھئی آپ کا کوئی نام تو ہوگا، تو وہ نام نہیں بتاتا۔ وہ صرف یہ کہہ کر چلا جاتا ہے  میں ڈی ایس پی ہوں اپنے نام كے بغیر۔

اب یہ کیا معاملہ ہوا؟ اگر واقعی کوئی سرکاری معاملہ ہے، کوئی انکوائری ہے، کوئی کارروائی ہے، تو اصول یہ ہے کہ پہلے اپنا پورا نام بتایا جائے، عہدہ بتایا جائے، محکمہ بتایا جائے، مقصد واضح کیا جائے، اور پھر بات کی جائے۔ لیکن یہاں تو صرف عہدے کا رعب جھاڑا جا رہا ہے۔ نام نہیں، شناخت نہیں، صرف ایک  عھدہ! میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھوں یہ طریقہ کار سراسر ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے اور انتہائی نازیبا انداز ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ قانون اس قسم کے رویے کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے؟ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 166 کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم جان بوجھ کر اپنے فرائض سے متعلق قانونی ہدایات کے خلاف عمل کرے اور اس کا مقصد یا علم یہ ہو کہ اس سے کسی کو نقصان پہنچے گا تو اسے ایک سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہ دفعہ اس وقت لاگو ہوتی ہے جب کوئی واضح قانونی ہدایت کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ پڑوس کے تنازعے میں اگر افسر اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے نجی معاملات میں دخل دے، مثلاً یہ کہہ کر دباؤ ڈالے کہ میں ڈی ایس پی ہوں، تو یہ اس کے سرکاری طرز عمل کے ضوابط سے انحراف ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں اس دفعہ کے اطلاق کی مثالیں موجود ہیں۔ فرشتہ ریپ اینڈ مرڈر کیس میں مقتولہ کے والد نے ایس ایچ او کی کوتاہی کے خلاف اسی دفعہ کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔
اسی طرح دفعہ 503 مجرمانہ دھمکی سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق مجرمانہ دھمکی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کے جسم، عزت یا جائیداد کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دے، جس کا مقصد خوف پیدا کرنا ہو، یا کسی ایسے فعل پر مجبور کرنا ہو جس کا وہ قانونی طور پر پابند نہ ہو، یا کسی ایسے حق سے باز رکھنا ہو جس کا وہ قانونی طور پر حقدار ہو۔ اس دفعہ کے لیے دو بنیادی عناصر ضروری ہیں: دھمکی کی ترسیل، اور خوف پیدا کرنے یا کسی کے رویے کو کنٹرول کرنے کا ارادہ۔ پڑوس کے معاملے میں اگر افسر اپنے عہدے کے ذریعے یہ اشارہ دے یا واضح کرے کہ وہ سرکاری طاقت استعمال کر کے پڑوسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو یہ دفعہ 503 کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے خرم شہزاد بنام ریاست (2022 SCMR 1946) میں واضح کیا کہ اگر دھمکی عملی طور پر نافذ کر دی جائے، یعنی واقعی انتقامی کارروائی کر دی جائے، تو پھر دفعہ 503 لاگو نہیں ہوتی بلکہ متعلقہ اصل جرم کا اطلاق ہوگا۔
اب ذرا پولیس اور انتظامی ضوابط کی طرف آئیں۔ پاکستان کے صوبائی پولیس نظام میں شکایات کے ازالے کے لیے ادارے موجود ہیں۔ اسلام آباد پولیس زون کی مثال لیں تو شکایت کمیٹی کو شکایت موصول ہونے کے اکیس دن کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنی ہوتی ہے۔ اگر شکایت کنندہ رپورٹ سے مطمئن نہ ہو تو وہ ایس ایس پی سے کم درجے کے نہ ہونے والے افسر پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی سے دوبارہ جائزہ مانگ سکتا ہے۔ جس افسر کے خلاف شکایت ہو، اسے اپنا دفاع پیش کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ عام سرکاری ملازمین کی بدعنوانی کے لیے صوبائی سطح پر ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن رولز لاگو ہوتے ہیں، مثلاً پنجاب میں پی ای ڈی اے ایکٹ 2006۔ اس طریقہ کار میں وجوہات بتانے کا نوٹس، باقاعدہ الزام، ملزم کا تحریری جواب کا حق، گواہوں سے جرح کا حق، تحقیقاتی رپورٹ کی پیشکش اور سزا کا فیصلہ شامل ہیں۔
انتظامی کارروائی کا بنیادی معیار یہ ہے کہ افسر کا عمل اس کے سرکاری عہدے سے جڑا ہوا ہے یا نہیں۔ اگر وہ پڑوس کے تنازعے میں خود اپنے عہدے کا حوالہ دے کر دباؤ ڈالتا ہے تو چاہے وہ نجی وقت اور نجی جگہ ہو، یہ سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ سندھ پولیس شکایات کے نظام کے مطابق پولیس کا اختیارات کا غلط استعمال، بدعنوانی یا کوتاہی شکایت کے قابل امور میں شامل ہیں۔ فرق کرنے والے اہم عناصر یہ ہیں: کیا افسر نے وردی پہنی یا عہدے کا اظہار کیا تاکہ بات میں دباؤ پیدا ہو؟ کیا اس نے اشارہ یا واضح کیا کہ وہ سرکاری طاقت استعمال کرے گا؟ کیا اس کے دورے کا کوئی جائز سرکاری مقصد تھا، مثلاً واقعی کوئی مقدمہ کی تحقیقات؟ اگر ان میں سے کوئی بھی عنصر موجود ہو تو عمل کے نجی ہونے کا دفاع مشکل ہو جاتا ہے۔۔ اب جبکہ ہم قانونی دفعات کا جائزہ لے چکے ہیں، یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ پولیس کے اندرونی ضوابط اور ضابطہ اخلاق اس قسم کے رویے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ پولیس کے ضابطہ اخلاق کا بنیادی ماخذ پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 114 ہے، جس کے تحت ہر صوبے نے اپنا کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا ہے۔ پنجاب پولیس کا کوڈ آف کنڈکٹ اس حوالے سے سب سے زیادہ تفصیلی اور واضح دستاویز ہے، جس میں ڈیوٹی اور غیر ڈیوٹی دونوں حالتوں میں رویے کی حدود متعین کی گئی ہیں۔
پنجاب پولیس کے کوڈ آف کنڈکٹ کا سب سے اہم حصہ "پولائٹنس اینڈ ٹولرنس” کا ہے۔ اس کے مطابق افسران کو عوام اور ساتھیوں کے ساتھ شائستگی اور احترام کا رویہ رکھنا چاہیے، اور ہر قسم کی ہراسمنٹ، امتیاز، یا دھونس سے گریز کرنا چاہیے۔ اس میں خاص طور پر درج ہے کہ "کسی فرد یا گروہ کی طرفداری نہ کی جائے” اور "جونیئر رینک کے ساتھ دھونس والا رویہ” ممنوع ہے۔ افسران کو اپنے غصے پر مکمل قابو رکھنا چاہیے اور دوسروں کے رویے سے اپنا تحمل نہیں کھونا چاہیے۔
"ایبیوز آف اتھارٹی” کے سیکشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی پولیس افسر تشدد، ظلم، یا غیر انسانی سلوک نہ تو خود کرے، نہ کسی اور سے کروائے، اور نہ ہی اس کی برداشت کرے۔ اس سلسلے میں کسی بالادست افسر کے حکم، قومی سلامتی کی صورت حال، یا کسی بھی ہنگامی حالت کو بہانہ بنانا ممنوع ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کا اسٹینڈنگ آرڈر 04/2004 بھی پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 10(3) اور 114 کے تحت جاری کیا گیا۔ اس میں واضح طور پر درج ہے کہ پولیس افسران عوام کے ساتھ "شائستگی اور وقار” کا رویہ رکھیں گے، معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیں گے، اور خاص طور پر غریب، معذور، اور بے سہارا بچوں کی رہنمائی اور مدد کریں گے۔
اسٹینڈنگ آرڈر میں ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ پولیس اپنی ڈیوٹی کے دوران انسانی وقار کا تحفظ کرے گی، اور طاقت کا استعمال صرف اس وقت کرے گی جب "سختی سے ضروری” ہو۔ افسران کو چاہیے کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بھی عوام کے حقوق اور وقار کا خیال رکھیں۔ گھر میں داخل ہونے یا تلاشی لینے کے حوالے سے بھی ایک اہم اصول موجود ہے: تلاشی تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لینی چاہیے اور "چادر اور چار دیواری” کا احترام لازم ہے۔ یہ شق خاص طور پر اس معاملے میں اہم ہے جہاں گھر میں مرد موجود نہ ہو اور صرف خواتین ہوں، کیونکہ اس صورت میں افسر کا رویہ اس ضابطے کے عین مطابق ہونا چاہیے۔
پنجاب پولیس کے اسٹینڈنگ آرڈرز میں تربیت کے دوران بھی ایک اصول درج ہے جو کہتا ہے کہ "اختیارات کا ناجائز استعمال” سختی سے ممنوع ہے، اور "اساتذہ، عملہ، اور ساتھیوں کے ساتھ احترام” کا معیار برقرار رکھا جائے گا۔
غیر ڈیوٹی کے حوالے سے سب سے واضح مثال حالیہ واقعہ ہے۔ اسلام آباد پولیس نے دو کانسٹیبلوں کو معطل کیا کیونکہ انہوں نے وردی میں سوشل میڈیا پر نامناسب مواد شیئر کیا۔ ڈی آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ "اسلام آباد پولیس ایک پیشہ ور اور منظم فورس ہے، اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا”۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر ڈیوٹی میں بھی افسران کے رویے کی نگرانی کی جاتی ہے اور خلاف ورزی پر کارروائی ہوتی ہے۔ اسلام آباد پولیس کا سوشل میڈیا پالیسی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے: افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ محکمے کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر بیان یا رائے شیئر نہ کریں، اور سرکاری وردی کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس پالیسی کی خلاف ورزی پر محکمانہ کارروائی ہوگی۔
ان تمام ضوابط کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ افسر کا عہدہ ایک "طاقت” نہیں بلکہ ایک "ذمہ داری” ہے۔ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر پنجاب ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2006 کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔ کسی بھی پولیس افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے رویے سے فورس کی مجموعی شبیہ کی عکاسی کرے، کیونکہ افسران عام طور پر انفرادی طور پر کام کرتے ہیں اور ان کا رویہ پوری فورس کی تصویر ہوتا ہے۔
سندھ پولیس کے حوالے سے صورتحال پنجاب سے قدرے مختلف ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سندھ میں پولیس آرڈر 2002 مکمل طور پر نافذ نہیں، بلکہ سندھ پولیس ایکٹ 1861 کے تحت چل رہی ہے، جس کی وجہ سے ضابطہ اخلاق کا قانونی ڈھانچہ کمزور ہے۔ پولیس آرڈر 2002 کی دفعہ 114 کے تحت ہر صوبے کو ضابطہ اخلاق جاری کرنے کا پابند بنایا گیا تھا، اور پنجاب نے یہ کام کیا۔ لیکن سندھ اور بلوچستان نے پولیس ایکٹ 1861 کی طرف رجوع کر لیا، جس کے نتیجے میں ان دو صوبوں میں ضابطہ اخلاق کے لیے کوئی مضبوط قانونی فریم ورک موجود نہیں۔
اس کے باوجود، سندھ پولیس میں رویے اور اخلاقیات سے متعلق کچھ ضوابط موجود ہیں جو مختلف ذرائع سے نکلتے ہیں۔ سندھ پولیس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1988 کے تحت "بدعنوانی” کی تعریف میں یہ شامل ہے: پولیس فورس میں اچھے نظم و ضبط کے خلاف رویہ، سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق کے خلاف عمل، یا ایک پولیس افسر اور شریف آدمی کے شایان شان نہ ہونا۔ اس میں سرکاری عہدے کا غلط یا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ناجائز فائدہ حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ یہ تعریف سپریم کورٹ کے فیصلے محمد اسماعیل لشاری بنام گورنمنٹ آف سندھ (2016 SCMR 2098) میں واضح کی گئی۔ اس تعریف کے تحت، اگر کوئی افسر پڑوس کے تنازعے میں اپنے عہدے کا رعب ڈالتا ہے اور اسے ناجائز فائدے یا دباؤ کے طور پر استعمال کرتا ہے، تو یہ محکمانہ بدعنوانی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
سندھ پولیس نے حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا اور میڈیا کے استعمال پر کافی سخت ضوابط جاری کیے ہیں۔ ایک حالیہ ہدایت کے مطابق، کسی بھی پولیس اہلکار کو آئی جی سندھ کی پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا بریفنگ، انٹرویو یا عوامی مباحثوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں۔ اس کی خلاف ورزی کو "سنگین بدعنوانی” قرار دیا گیا ہے جس پر محکمانہ کارروائی ہوگی۔ اسی طرح، سندھ پولیس کے اہلکاروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سرکاری ڈیوٹی، دفاتر، گاڑیوں، وردی یا سرکاری وسائل کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر نہ کریں۔ اسے محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی پر سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔
سندھ پولیس کے ضلع نوشہرو فیروز کی جانب سے جاری کردہ ایک "کوڈ آف کنڈکٹ” میں بنیادی اصول درج ہیں: احترام، نفرت انگیز تقریر سے پرہیز، ٹرولنگ نہ کرنا، اور سوچ سمجھ کر بات کرنا۔ اگرچہ یہ مختصر ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوامی رویے میں احترام اور تحمل کی توقع کی جاتی ہے۔ سندھ پولیس کی ایک پالیسی نوٹیفکیشن کے مطابق، محکمے میں خواتین کے تئیں حساسیت بڑھانے اور انسانی حقوق کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے SOPs اور کوڈ آف کنڈکٹ بنانے، افسران اور جوانوں کی تربیت، اور انعامات و سزاؤں کا نظام موجود ہے۔
سندھ پولیس میں پنجاب کی طرح کا تفصیلی اور جامع ضابطہ اخلاق موجود نہیں، کیونکہ قانونی ڈھانچہ ہی مختلف ہے۔ تاہم، "بدعنوانی” کی تعریف میں سرکاری عہدے کا ناجائز استعمال شامل ہے، اور سوشل میڈیا و میڈیا کے حوالے سے سخت پابندیاں موجود ہیں۔ اگر کوئی افسر پڑوس میں اپنے عہدے کا رعب ڈالتا ہے، تو اسے سرکاری عہدے کا غلط استعمال قرار دے کر محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ شکایت ثابت ہو جائے۔
اب اخلاقی پہلو پر غور کریں۔ پاکستان میں سرکاری ملازمین کے اخلاقی ضوابط گورنمنٹ سرونٹ کنڈکٹ رولز میں درج ہیں۔ سرکاری ملازم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نجی اور سرکاری دونوں زندگیوں میں اپنے عہدے کی وقار کے مطابق رویہ اختیار کرے۔ عہدے کو نجی تنازعات میں دباؤ کے طور پر استعمال کرنا، چاہے مجرمانہ حد تک نہ پہنچے، پھر بھی سرکاری اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔ پڑوس کے تعلقات کے اخلاقی پہلو سے دیکھیں تو پاکستانی معاشرہ روایتی طور پر حقوق الجوار پر زور دیتا ہے۔ جب مرد سربراہ گھر پر موجود نہ ہو اور گھر میں صرف خواتین ہوں تو ان پر دباؤ ڈالنا نہ صرف اس اخلاقی روایت کے خلاف ہے بلکہ سرکاری ملازم کی جانب سے ضبط اور وقار کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔
اس سارے معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر محلے میں لوگ عہدوں اور شناختوں کے زور پر ملنے لگ جائیں تو پھر نظام بگڑ جائے گا۔ پڑوس کا رشتہ برابری، ادب اور اعتماد پر چلتا ہے۔ عہدہ کسی بھی صورت میں پڑوسیوں کے درمیان دھونس کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اگر کسی کو واقعی کوئی شکایت ہے تو اس کے لیے پولیس اسٹیشن، عدالت یا مقامی انتظامیہ کا راستہ موجود ہے۔ خود جا کر عہدے کا رعب مارنا قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے۔
ازالے کے راستوں کی بات کریں تو سب سے پہلے محکمانہ شکایت ہے۔ اگر افسر اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے دباؤ ڈال رہا ہے تو اس کے محکمے، مثلاً پولیس ہیڈکوارٹر شکایت کمیٹی، کو تحریری شکایت دی جا سکتی ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ پولیس شکایت کمیٹی کا راستہ بھی موجود ہے، جہاں ضلعی پولیس شکایت ادارے سے رجوع کیا جا سکتا ہے اور اکیس دن میں تحقیقات اور رپورٹ کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر معاملہ دفعہ 166 یا 503 کے دائرے میں آتا ہو تو براہ راست مجسٹریٹ کے سامنے نجی شکایت دائر کی جا سکتی ہے، عدالت ضابطہ فوجداری کی دفعہ 202 کے تحت تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ اور اگر افسر پولیس کے علاوہ کسی اور محکمے کا ہو تو اس کے سیکرٹریٹ یا انسداد بدعنوانی ادارے کو رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
خلاصہ یہ نکلا کہ اس قسم کے رویے کی قانونی حیثیت دو متغیرات پر منحصر ہے: افسر نے عہدے کا حوالہ دیا یا نہیں، اور اس کے عمل کا مقصد خوف پیدا کرنا یا کنٹرول کرنا تھا یا نہیں۔ اگر دونوں چیزیں موجود ہوں تو دفعہ 166 اور 503 دونوں لاگو ہو سکتی ہیں۔ پڑوس کے معاملے کی خاص بات طاقت میں عدم توازن ہے۔ جب مرد سربراہ گھر پر نہ ہو اور گھر میں صرف خواتین ہوں تو سرکاری عہدے کا حوالہ نجی تنازعے کو ایک ادارہ جاتی دباؤ میں تبدیل کر دیتا ہے، جو قانونی اور اخلاقی دونوں پہلوؤں سے سنگین ہے۔ اور موجودہ ازالے کا نظام بنیادی طور پر محکمانہ سطح پر کام کرتا ہے، نہ کہ فوجداری سطح پر۔ اپنے محکمے یا پولیس شکایت کمیٹی میں شکایت دائر کرنا جوابدہی کا سب سے براہ راست راستہ ہے، جبکہ فوجداری شکایت زیادہ سخت لیکن مشکل راستہ ہے۔ سب سے آخر میں بات یہ ہے کہ عہدہ ایک ذمہ داری ہے، اختیار نہیں۔ اگر ہم اس ذمہ داری کو نجی مفادات یا پڑوس کی چوہدراہت کے لیے استعمال کریں گے تو جس نظام پر ہمیں فخر ہے وہی نظام ہمارے ہاتھوں بگڑ جائے گا۔ پڑوس میں رہنے کے لیے عہدہ نہیں، ادب چاہیے۔ اور ادب ہی وہ چیز ہے جو ایک افسر کو ایک عام پڑوسی سے ممتاز کرتی ہے۔



تمبیہ

مبینہ طور پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن اس مضمون کا مقصد کسی فرد، کسی محکمے، یا کسی خاص واقعے کی نشاندہی نہیں۔

یہ ایک ایسے رویے کی طرف توجہ دلانا ہے جو اگر وقتی طور پر سامنے  ٓاجائے تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے، تاکہ عہدے کا احترام اور پڑوس کا اعتماد دونوں محفوظ رہیں یہ تحریر نہ کسی پر الزام لگاتی ہے، نہ کسی واقعے کی تفصیل دیتی ہے صرف یہ بتاتی ہے کہ "مبینہ طور پر ایسی اطلاعات رپورٹ ہوتی رہتی ہیں”، 

ادارہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.