پاکستان میں جس جماعت کی بھی حکومت ہو لیکن ملک کی پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہئے، پاک جاپان تعلقات کو باہمی تعاون سے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، جاپنی ڈپٹی قونصلیٹ جنرل ناکا گاوایاسوشی، ڈاکٹر حماداللہ کاکیپوٹو، ڈاکٹر مکیش کمار کھٹوانی، مرتضیٰ کھوسو و دیگر کا جامعہ سندھ میں سیمینار سے خطاب
PNA/HYD
حیدرآباد(پی پی آئی) ایریا اسٹڈی سینٹر جامعہ سندھ جامشورو کی جانب سے ”جاپان پاکستان تعلقات: تاریخی جائزہ“ کے زیر عنوان جاپانی قونصلیٹ جنرل کراچی اور پاکستان جاپان انٹیلکٹ فورنم کے تعاون سے ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں جاپانی قونصلیٹ کراچی کے ڈپٹی کونسل جنرل ناکاگاوا یاسوشی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، تاہم جاپانی زبان کے ماہر ڈاکٹر کزنوری متصودا، پاکستان جاپان انٹلیکٹ فورم کے صدر محمد اقبال برما و ایریا اسٹڈی سینٹر کے اسسٹنٹ پروفیسر غلام مرتضیٰ کھوسو نے سیمینار میں اپنے مقالات پیش کیے۔ سیمینار کی صدارت ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر حماداللہ کاکیپوٹو نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر حماد اللہ کاکیپوٹو نے کہا کہ پاکستان و جاپان کے مثالی تعلقات رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر رابطہ مہم بڑھانے کیلئے جاپانی حکومت پاکستانیوں کے لیے ویزا پالیسی میں مزیدنرمی کرے اور جاپانی کمپنیز کو پاکستان لانے کیلئے کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سندھ و جاپانی قونصلیٹ کے باہمی تعاون سے مشترکہ سیمینار و تحقیق اور جاپانی زبان کا شش ماہی پروگرام جاری ہے، جس کا بہت فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان و جاپان بہت پرانے دوست ہیں، جو اہم ملکی امور پر ہمیشہ ایک ساتھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاپان پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جس کیلئے پاکستان کو جاپان کی اقتصادی پالیسیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ جاپانی قونصلیٹ جنرل کراچی کے کونسل جنرل ناکا گاوا سوشی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ سندھ کا ایریا اسٹڈی سینٹر پاکستان میں واحد ادارہ ہے، جو جاپان سمیت مشرقی ایشیا پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان و جاپان کے مابین بہترین تعلقات ہیں، جو ہر وقت بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے باوجود ہمیشہ کی طرح مضبوط ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاپان نے پاکستان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی ہے، جو کہ مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے حکومت پاکستان کو درخواست کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میں جو بھی جماعت ہو، لیکن ملک کی پالیسیوں میں تسلسل ہونا چاہئے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو باہمی تعاون سے مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ڈائریکٹر ایریا اسٹڈی سینٹر ڈاکٹر مکیش کمار کھٹوانی نے کہا کہ ایریا اسٹڈی سینٹر و جاپانی قونصلیٹ جنرل کراچی میں پرانے اور قریبی مراسم ہیں، دونوں اداروں نے ایک دوسرے کے تعاون سے کئی پروگرامز کا انعقاد کیا ہے۔ جاپانی زبان کے ماہر ڈاکٹر کزنوری متصودا نے کہا کہ زبان و ثقافت دو ملکوں کے تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح جاپانی زبان سیکھنے سے پاکستانی طلباءکو جاپان میں تعلیم و تحقیق کے مواقع مل سکیں گے، جس سے جاپان و پاکستان کے مابین تعلقات مزید گہرے ہونگے۔ محمد اقبال برما نے کہا کہ جاپان و پاکستان میں بہت پرانے تعلقات ہیں، جو اتار چڑھاؤ کا شکار بھی رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں نے اپنا باہمی تعاون جاری رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جغفرافیائی ساخت کی وجہ سے جاپان پاکستان کو بہت اہم ملک سمجھتا ہے۔ غلام مرتضیٰ کھوسو نے کہا کہ پاکستان و جاپان تعلقات تاریخی لحاظ سے انتہائی گہرے اور اہم رہے ہیں۔ جاپان ایک اصول پسند ملک رہا ہے، جس نے دنیا میں قیام امن کیلئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاپان نے پاکستان سے ہر مشکل گھڑی میں تعاون کیا ہے اور کئی شعبوں میں جاپان نے پاکستان کی مدد کی ہے۔ تقریب کے آخر میں مہمانوں میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر جاپانی زبان کا شش ماہی کورس مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ آخر میں ایریا اسٹڈی سینٹر کے لیکچرر ماجد علی نوناری نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔