اہم خبریں

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، مہنگائی کا نیا طوفان اور کفایت شعاری کا اعلان: کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟

48

PNA

چیف ایڈیتر  کے قلم سے

قارئین کی آراء اور حقائق کی روشنی میں ایک تجزیاتی جائزہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤنے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کی زد میں آنے والے ممالک میں پاکستان سرِفہرست ہے۔ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کیا گیا، اور اب مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال میں وزیراعظم شہباز شریف نے 10 مارچ 2026 کو قوم سے خطاب میں 14 نکاتی کفایت شعاری منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات عوام کو ریلیف دینے کے لیے کافی ہیں؟

 تیل کی قیمتوں کا سفر دبئی سے پاکستان تک

 متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جو روزانہ 30 لاکھ بیرل سے زائد تیل نکالتا ہے، وہاں پیٹرول پر ٹیکسز بہت کم ہیں، اور ان کی کرنسی ڈالر کے ساتھ پیگ ہے۔

[07:59, 10/03/2026] True Journalism Is ATrut: شرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، مہنگائی کا نیا طوفان اور کفایت شعاری کا اعلان: کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟

تحریر: قارئین کی آراء اور حقائق کی روشنی میں ایک تجزیاتی جائزہ

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی—خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤ—نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کی زد میں آنے والے ممالک میں پاکستان سرِفہرست ہے۔ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کیا گیا، اور اب مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال میں وزیراعظم شہباز شریف نے 10 مارچ 2026 کو قوم سے خطاب میں 14 نکاتی کفایت شعاری منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات عوام کو ریلیف دینے کے لیے کافی ہیں؟

 تیل کی قیمتوں کا سفر: دبئی سے پاکستان تک

دلچسپ بات یہ ہے کہ خطے میں موجود متحدہ عرب امارات—خاص طور پر دبئی

 متحدہ عرب امارات خلیجی ریاستوں میں قیمتوں میں اضافہ

متحدہ عرب امارات کی فیول پرائس کمیٹی نے فروری 2026 کے مقابلے میں مارچ 2026 کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو یکم مارچ سے نافذ العمل ہے ایندھن کی قسم فروری قیمت (درہم) مارچ قیمت (درہم) اضافہ (فلس)

سپر 98 پیٹرول 2.45 2.59 14 فلس

سپیشل 95 پیٹرول 2.33 2.48 15 فلس

ای پلس 91 پیٹرول 2.26 2.40 14 فلس

ڈیزل 2.52 2.72 20 فلس

یہ اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کیا گیا ہے۔ فروری کے دوران برینٹ کروڈ 73 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا تھا، جس کی وجہ جغرافیائی کشیدگی اور امریکہ-ایران مذاکرات میں غیر یقینی کی صورتحال تھی ۔

دیگر خلیجی ممالک میں صورتحال

قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے 6 مارچ 2026 کو خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک کو چند ہفتوں میں پیداوار بند کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں ۔

پاکستان میں صورتحال بالکلیہ مختلف ہے۔ ہم تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں، بلکہ صارف ہیں۔ ہماری کل پیداوار محض 80 ہزار بیرل یومیہ ہے، جو طلب کا صرف 15 سے 20 فیصد ہے۔ باقی 80 فیصد تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ 6 مارچ 2026 کو ہونے والے اضافے کے بعد پیٹرول 266.17 روپے سے بڑھ کر 321.17 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 280.86 روپے سے بڑھ کر 335.86 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ اس میں حکومتی ٹیکسز اور لیوی کا حصہ تقریباً 120 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ ٹیکسز میں کمی کیوں ممکن نہیں؟

اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ حکومت ٹیکسز میں کمی کر کے عوام پر بوجھ کیوں نہیں کم کرتی؟ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ آئی ایم ایف کا پروگرام ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام میں ہے، جس کی شرط ہے کہ پٹرولیم لیوی مقررہ سطح سے کم نہ کی جائے اور عالمی قیمتوں کے مطابق فوری ایڈجسٹمنٹ کی جائے۔ اگر حکومت ٹیکسز کم کرے گی تو آئی ایم ایف کا پروگرام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

دوسری وجہ بجٹ خسارہ ہے۔ حکومت پیٹرولیم ٹیکسز سے ماہانہ تقریباً 70 سے 80 ارب روپے کماتی ہے۔ اگر ٹیکسز کم کر دیے جائیں تو یہ خسارہ مزید بڑھے گا، اور حکومت کو یا تو نئے قرضے لینے ہوں گے یا ترقیاتی کام روکنے ہوں گے۔

تیسری وجہ پہلے سے طے شدہ اہداف ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی سے 1.28 ٹریلین روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اگر یہ ہدف پورا نہ ہوا تو بجٹ خسارہ بڑھے گا اور مہنگائی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ وزیراعظم کا 14 نکاتی کفایت شعاری منصوبہ

وزیراعظم شہباز شریف نے 10 مارچ 2026 کو صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے قوم سے خطاب میں 14 نکاتی کفایت شعاری منصوبے کا اعلان کیا ہے، جو دو ماہ کے لیے نافذ العمل ہو گا۔سرکاری گاڑیوں اور ایندھن میں کمی

سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کا کوٹہ 50 فیصد کم کر دیا گیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ کے لیے سڑکوں سے ہٹا دی جائیں گی۔

ایمبولینسز اور پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو اس سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

 سرکاری تنخواہوں میں کٹوتی

 وفاقی کابینہ کے اراکین، وزراء، مشیران اور معاونین دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے۔

 اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی جائے گی۔

 گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے 300,000 روپے سے زائد تنخواہ یافتہ افسران کی دو دن کی تنخواہ کٹوتی کرکے عوامی فلاح کے لیے استعمال کی جائے گی۔

 دفتری اخراجات اور پالیسیوں میں تبدیلی

تمام سرکاری محکموں کے 20 فیصد غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے گی۔

 نئی گاڑیوں، ائیر کنڈیشنرز، فرنیچر اور دیگر اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔

 غیر ضروری بیرون ملک سفر پر پابندی، صرف قومی مفاد کے لیے ضروری سفر کی اجازت ہو گی۔

ہوٹلوں میں سرکاری تقریبات، سیمینارز اور افطار ڈنر پر پابندی، یہ سب سرکاری عمارتوں میں منعقد ہوں گے۔

 ملاقاتوں کے لیے ویڈیو لنک اور آن لائن طریقوں کو ترجیح دی جائے گی۔

دفتری اوقات اور تعلیمی ادارے

· سرکاری دفاتر چار دن (جمعرات سے اتوار) کھلے رہیں گے۔

· بینک، انڈسٹری اور زراعت کے شعبے اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

· تمام سرکاری اور نجی اداروں میں 50 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں گے، سوائے ضروری خدمات کے۔

ملک بھر کے اسکول دو ہفتے بند رہیں گے۔

یونیورسٹیز اور کالجز آن لائن کلاسز میں تبدیل کر دیے جائیں گے۔

 متوقع بچت وفاقی سطح پر گاڑیوں کے ایندھن میں کمی سے 4.5 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

غیر ترقیاتی اخراجات میں 20 فیصد کمی سے 22 ارب روپے کی بچت کا امکان ہے۔

 ذخیرہ اندوزوں کے خلاف وارننگ

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پٹرول، ڈیزل اور دیگر ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال نے مزید سنگین شکل اختیار کی تو قیمتیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں۔

پنجاب حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (Pera) کوکارروائی کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔

ذراٰٰؑؑیع کے مطابق دبئی میں خوراک کا مسئلہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ دبئی میں پیٹرول کی قیمتیں تو مستحکم ہیں، مگر وہاں کھانے پینے کی اشیاء پر تشویش شروع ہو چکی ہے۔ متحدہ عرب امارات 90 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے، اور اس کی سپلائی چین آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں پر منحصر ہے۔ اگر کشیدگی بڑھی تو وہاں بھی خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں آمدنی زیادہ ہے، اس لیے عوام پر اثر کم ہو گا۔

 پس منظر اور وجوہات یہ اقدامات اس لیے اٹھائے گئے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ (اسرائیل-امریکہ-ایران تنازع) کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پاکستان کا ماہانہ تیل درآمدی بل 600 ملین ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ حالیہ 55 روپے فی لیٹر اضافہ بھاری دل سے کیا گیا، اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مزید اضافے سے بچنے کی کوشش کریں گے  عوام کیا کر سکتے ہیں؟جب نظامی سطح پر بہتری کی امید کم ہو، تو انفرادی سطح پر احتیاطی تدابیر ہی واحد راستہ ہیں:

 پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کیا جائے۔

 شیئرنگ (کار پولنگ) اپنائی جائے۔

 ایک گھر سے ایک گاڑی کا اصول اپنایا جائے۔

 قریبی مقامات پر پیدل یا سائیکل استعمال کی جائے۔

 غیر ضروری تفریحی سفر سے گریز کیا جائے۔

گاڑی کی باقاعدہ مینٹیننس کروائی جائے تاکہ ایندھن کی بچت ہو۔

 سست رفتاری سے ڈرائیونگ کی جائے۔اگر پاکستان کے شہری اوسطاً 20 فیصد سفر کم کر دیں اور 30 فیصد کار پولنگ شروع کر دیں تو ماہانہ 15 سے 20 ارب روپے کی بچت ممکن ہے۔

 نیتوں کی خرابی کا مسئلہ ان تمام تجاویز کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں نظامی سطح پر اصلاحات ممکن نہیں ہو پاتیں۔ ذخیرہ اندوزی عام ہے اور اس پر کوئی مؤثر روک نہیں۔ ناجائز منافع خوری روز کا معمول ہے۔ سرکاری افسروں اور تاجروں کی ملی بھگت عوام پر بوجھ بنتی ہے۔ احتساب کا فقدان ہے اور ریگولیٹری ادارے غیر مؤثر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں گر جائیں تو پاکستان میں فوری کمی نہیں آتی، مگر قیمتیں بڑھیں تو فوری اضافہ ہو جاتا ہے مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ خوراک، ٹرانسپورٹ، بجلی سب مہنگے ہوں گے۔ عام آدمی کی آمدنی وہی رہے گی مگر اشیاء مہنگی ہوں گی۔ صنعتی لاگت بڑھنے سے کاروبار متاثر ہوں گے اور بے روزگاری بڑھ سکتی ہے۔ مہنگائی عوام کو سڑکوں پر لا سکتی ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری کا منصوبہ تو بنا لیا ہے، مگر یہ اقدامات عارضی ہیں اور ان پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے۔ 43 وفاقی وزارتوں میں سے 32 کا جائزہ لیا جا رہا ہے، مگر حقیقی نتائج آنے میں وقت لگے گا۔

وزیراعظم کے اعلان کردہ 14 نکاتی منصوبے میں سرکاری گاڑیوں میں 60 فیصد کمی، ایندھن کے کوٹے میں 50 فیصد کمی، اعلیٰ سرکاری افسران کی تنخواہوں میں کٹوتی، اور دفتری اخراجات میں 20 فیصد کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم، ان اقدامات سے مجموعی طور پر 26.5 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جو کہ پاکستان کی معیشت کے بڑھتے ہوئے خسارے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.