اہم خبریں

وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ اگر وہ ہزارہ برادری کے دھرنے میں گئے تو ۔۔۔۔سینئر صحافی نصراللہ ملک نے تہلکہ خیز دعوی کردیا

217

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصراللہ ملک نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے وزیراعظم عمران خان ہزارہ برادری کے دکھ میں شریک ہونے کے لئے تیار تھے اور اُنہوں نے پلان بھی مرتب کر لیا تھا تاہم "سرخ فیتہ ” بیوروکریسی اور سیکیورٹی جیسے مسائل اُن کی راہ میں رکاوٹ بن گئے،وزیراعظم کو  چاہئے کہ وہ اُنہیں دی جانے والی تجاویز  سائڈ پر رکھتے ہوئے ہزارہ برادری کے غم میں شریک ہوں کیونکہ کوئٹہ کی سخت سردی میں سڑک پر موجود کم سن بچوں ،بزرگوں اور عورتوں کے ساتھ  کوئی مزید سانحہ رونما نہ ہو جائے۔

تفصیلات کے مطابق نصراللہ ملک نے اپنے یوٹیوب چینل پر  مچھ میں بے دردی کے ساتھ قتل ہونے والے گیارہ کان کنوں کے ورثاءاور ہزارہ برادری  کی جانب سے دیئے جانے والے دھرنے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  کوئٹہ شہر میں شدید سردی کے باوجود ہزارہ برادری کے دھرنے میں  ہزاروں افراد کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اُن کے پاس آئیں ، زخموں پر مرہم رکھیں اور دکھوں کا ازالہ کریں ،وزیراعظم کے آنے تک وہ اپنے پیاروں کی تدفین نہیں کریں گے،اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات کوئٹہ کے اندر ہوتے رہے ہیں اور ہزارہ برادری اس پر احتجاج کرتی رہی ہے،بائیس ماہ پہلےبھی ایک ایساہی واقعہ پیش آیاتھاجس کےبعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وہاں پر گئے،ہزارہ برادری اور مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور اس بات کا اُن سے وعدہ کیا گیا کہ اُن کی ٹارگٹ کلنگ اب نہیں ہو گی ۔

اُنہوں نے کہا کہ اب چار روز سے ہزارہ برادری کا حتجاج جاری ہے،وفاقی وزراء بھی جا چکے ہیں جبکہ زلفی بخاری بھی وہاں سے ہو آئے ہیں ،وزیراعلیٰ  جام کمال بھی ہزارہ برادری اور مجلس وحدت المسلمین کی قیادت سے ملے اور اُنہیں کہا کہ وزیراعظم آنا چاہتے ہیں لیکن وہ کچھ دن بعد آئیں گے، اب سوال پیدا ہوتا ہےکہ وزیراعظم وہاں کیوں نہیں جا رہے؟وزیراعظم کو یہ بریف کیا گیااور بتایا گیا کہ کوئٹہ جانے کی صورت میں انہیں دو قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،ایک تو یہ کہ وہاں مخالفانہ نعرے سننا پڑ سکتے ہیں ،تلخ باتیں سننا پڑیں گی اور لوگ غم و غصے کا اظہار بھی کریں گے ،لوگ حکومت کے خلاف کڑوی باتیں بھی کریں گےاور جو پہلے وعدے کئے گئے تھے وہ بھی یاد کروائیں گےدوسرا یہ تھا کہ اگر اس قسم کے واقعات ملک کے کسی دوسرے حصے میں  ہوتے ہیں تو پھر کہاں ، کہاں وزیراعظم جائیں گے؟سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعظم کو بریف کیا گیا کہ وہاں نعرے لگ سکتے ہیں ،احتجاج ہو سکتا ہے اور مشکل پیدا ہو سکتی ہے،وزیراعظم وہاں جائیں گے تو لوگ نعرے لگائیں گے ،مطالبات رکھیں گے،غم و غصے کا اظہار کریں گے اور برا بھلا بھی کہہ سکتے ہیں ، ہمارے ہاں شائد حکمران برا بھلا سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

نصراللہ ملک کا کہنا تھا کہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ جس پر وزیراعظم اپنا دورہ ہی موخر کر دیتے ،وزیراعظم اور چیف ایگزیکٹو  کا کام ہے متاثرین کے پاس  جانا ،اُن کی بات سننا اور اُن کے دکھوں کا مداوا کرنا ،اِن کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کروانا ،اگر اس دوران  کوئی اپنے پیاروں کی لاشیں رکھ کر بیٹھا ہو اور اگر وہ چند ایسے  جملے غصے میں کہہ بھی دے تو چاہے وہ وزیراعظم ہو یا چیف ایگزیکٹو اسے ان تلخ جملوں سے کیا فرق پڑتا ہے؟عوام کے نمائندوں کو عوام کی باتیں سننا پڑتی ہیں ،عوام کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہےلیکن ہمارے ہاں بیورو کریسی، سرخ فیتہ اور سیکیورٹی کے نام پر بننے والا حصار ہوتا  ہے وہ اپنی اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وزیراعظم صاحب آپ کو یہاں جانا چاہئے اور یہاں نہیں ،وہ عمران خان کے راستے میں بھی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی چھوٹا واقعہ نہیں ہے،دس افراد کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ہے،اگروزیراعظم کو وہاں اور کہیں اور بھی جانا پڑ سکتا ہےتو انہیں ضرور جانا چاہئے کیونکہ وزیراعظم کی اور کیا ذمہ داری ہوتی ہے ؟وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ کسی طریقے سے تدفین کا معاملہ حل ہو جائے تو وہ بعد میں وہاں جائیں ،اظہار تعزیت بھی کریں اور لواحقین سے پھر وعدے وعید کرتے ہوئے اب سخت ایکشن کی یقین دہانی کرائیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایسی کارروائیاں ایک مدت سے ہوتی آ رہی ہیں ،بلوچستان دشمن کے نشانے پر بھی ہےاور کئی دوسرے فیکٹر بھی ہیں ،بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی پکٹس موجود ہیں اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں ایسی بحرانی کیفیت جاری رہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے بلوچستان حکومت کے لئے چیلنج بنا رہے ، ملک دشمن عناصر جو وہاں پر اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں ان کی بھی کوشش ہے کہ بلوچستان کو فرقہ واریت ،لسانیت اور گروہوں کے نام پر نفرتوں کی ایسی  آگ میں لپیٹا جائے  کہ کسی صورت امن برقرار نہ رہ سکے اور دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائے،یہ بڑا اہم وقت ہے ،وزیراعظم کو  سیکیورٹی کے حوالے سے دی جانے والی تمام رپورٹوں کو سائڈ پر رکھ دینا چاہئے کیونکہ وزیراعظم کو سیکیورٹی دینا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.