اہم خبریں

کراچی کے بیشتر علاقہ مکینوں کو پانی نہیں مل رہا مگر پانی کی چوری کھلے عام جاری۔

419

PNA/NPCK

Video By NPCK

جو تھوڑا بہت پانی آتا ہے درمیان میں لگے ہوئے ناجائز کنکشنوں سے وہ بھی متاثر ہو جاتا ہے

کراچی کے بہت سے علاقوں میں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگ انتہائی پریشان ہیں اور مہنگے داموں پانی خرید کر پورا کر رہے ہیں تاحال انتظامیہ یہ اس بحران پر قابو پانے میں ناکام ہے۔

اس بحران کی آڑ میں ٹینکر مافیا کی چاندی اور واٹر بورڈ کے عملے کی رشوت ستانی نچلے عملے کی ملی بھگت سے مختلف علاقوں کے پانی میں گھپلا کی داستان عام ہونے لگی ہیں۔

کہیں سیاسی اثر و رسوخ اور کہیں داداگیری ۔

عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں لینے والے یہ عوامی خدمتگار پانی کے ذریعے قوم کو غلام بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔

حکومتوں کا بنایا ہوا روڈ انفرااسٹرکچر یا اپنی مدد آپ کے تحت کیے گئے کام انفراسٹرکچر ٹینکروں کی آمدورفت اور ان سے بہتے پانی کی وجہ سے تباہ و برباد شروع ہو رہا ہے۔

روڈ پر پھر یہ دوڑتے اندھے خطرناک ہاتھی عوامی حادثات کا سبب بننا شروع ہو رہے ہیں۔

پی این اے کو

ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں معلوم ہوا ہے کہ سوسائٹیز میں وال مین لوگوں کی چاندی لگی ہوئی ہے۔کہیں دبے اور کہیں کھلے نذرانے چل رہے ہیں۔

جو تھوڑا بعدپانی علاقوں میں آ رہا ہے تو وہاں بندربانٹ کا ماحول ہے 

سب سے زیادہ براہ علاقوں کا ہے جو باقاعدگی سے قانون پر عمل کرتے ہیں اور پانی کے ادا کرتے ہیں۔۔

مگر اس کے باوجود اردگرد کے غیر قانونی کنکشن حاصل کئے ہوئے لوگوں کی دادا گیری ان کو رتی بھر پانی سے بھی محروم کر دیتی ہے  اور مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہے۔

ضلع ایسٹ کے کئ سوسائٹیاں اور علاقے جس میں ایڈمنسٹریشن سوسائٹی دادا بھائی ٹاؤن سوسائٹی منظور کالونی شامل ھیں ضرورت کے پانی سے بھی محروم ہیں۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کئی لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں اور کہیں پانی کا احساس ضیاع یہ انتظامیہ کی کارکردگی پرایک سوالیہ نشان ہے ایک طرف پانی کی پریشانی اور دوسری طرف متعلقہ محکموں کے افراد کا توہین اور ہتک آمیز رویہ۔

یہ سب ایک قانون پسند کے لئے لیے سخت اذیت کا سبب ھے

اس میں سب سے زیادہ پریشان ٹیکس دہندہ اور بل ادا کرنے والے لوگ ہیں۔

علاقہ مکینوں کا حکام بالا اور انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد اس پریشانی کو دور کیا جائے بندر بانٹ اور نوازنے کی پالیسی کو بند کیا جائے ۔ورنہ وہ سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب تک ان کی چوریاں خفیہ طریقے سے پکڑی جاتی ہیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ متعلقہ لوگ ہمیں غلط گائیڈ کرتے ہیں.

علاقہ مکینوں کا یہ بھی کہنا تھا احتجاج کے ساتھ ساتھ ایکشن کمیٹی بنا کر عدالتوں سے انصاف مانگنے کے لیے مجبور ہوں گے۔

پی این اے نے جب متعلقہ انتظامیہ کے کچھ افراد سے رابطہ کیا تو انہوں نے انھوں نے ان باتوں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ پیچھے سے بلک میں مسائل ہیں اور ایک دم سب کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ اور وہ دن رات پانی کے سسٹم کو بہتر کرنے میں لگے ہوئے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.