صحافی حامد میر کی معذرت یا یوٹرن:
PNA/NPCK
حالانکہ ان کی تقریر میں کہی گئی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملٹری اسٹیبلشمینٹ ہے.
.جیو نیوز کے اینکر اور صحافی حامد میر نے اپنے متنازع بیان پر ’فوج سے معافی مانگ لی ہے‘ وہیں حامد میر کا کہنا ہے کہ یہ وضاحتی بیان صحافتی تنظیموں کا ہے اور اُن کی وضاحت اسٹیبلیشمنٹ اور جیو کی انتظامیہ کے لیے نہیں بلکہ صحافتی تنظیموں کے لیے ہے9 جون بی بی سی کا تبصرہ..
یاد رہے کہ اپریل 2014 میں حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کو چھ گولیاں لگی تھیں۔ انھوں نے اس حملے کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا تھا۔
’انھیں اپنی تقریر سے پیدا ہونے والے تاثر کا بخوبی احساس ہے اور وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنے ضمیر، احساسِ ذمہ داری اور مروجہ صحافتی اقدار کے تحت یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی تقریر میں کسی فرد کا نام نہیں لیا اور نہ ان کی فوج سے کوئی لڑائی ہے۔‘ حامد میر

تقریر کے بعد چھ شہروں میں اُن کے خلاف درخواستیں دائر ہوئی تھیں اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ وضاحتی بیان دیں جس کے بعد اس کمیٹی نے اُن کا یہ وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ حامد میر
میں فوج کا بحیثیت ادارہ احترام کرتا ہوں، حامد میر
میں نے سیاچن سےلیکر لائن آف کنٹرول تک اور فاٹا سے بلوچستان تک فوجی بھائیوں کی قربانیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور انکی کوریج کو باعثِ فخر سمجھا، حامد
میرا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری اور جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا، حامد میر.
حامد میر کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آنے کے بعد سے تاحال جیو کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔