اہم خبریں

سوا تین ارب روپے کے مالیاتی فراڈ پر جہانگیر ترین اور فیملی کے دیگر افراد پر مبینہ فراڈ اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ایف آئی اےنے مقدمہ درج کیا:

237

PNA

جہانگیر ترین نے اپنے داماد کی کاغذ بنانے والی بند فیکٹری میں جے ڈی ڈبلیو کمپنی سے سوا تین ارب منتقل کیے۔ بند فیکٹری میں منتقل ہونے والی رقم بعد ازاں فیملی ممبران کا  اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔ایف آئی اے

ایف آئی اےلاہورکی تحقیقاتی ٹیم نے3 ارب14 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ 22 مارچ کو درج کیا ہے۔ جہانگیر ترین نے پلپ کمپنی میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے غیرقانونی شیئر منتقل کیے۔ جے ڈی ڈبلیو سے پلپ کمپنی میں شیئرز فراڈ کے ذریعے منتقل کیے گئے جب کہ کمپنی کے باقی عہدیداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔ایف آئی آر کے مطابق جہانگیر ترین کے رائٹ ہینڈ سابق سیکرٹری زراعت رانا نسیم کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا۔ ذرائع کے مطابق رانا نسیم گنے کی خریداری میں غبن کرتا تھا۔ رانا نسیم بطور چیف فنانشل افسر جہانگر ترین کی کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ایف آئی اے

جہانگیرترین، علی ترین کےخلاف 2 ارب 20 کروڑ روپےکی منی لانڈرنگ کامقدمہ درج کیا ۔ایف آئی اے

 یہ تمام بے بنیاد اور من گھڑت الزامات ہیں، میری اور میرے خاندان کے تمام اثاثے ڈکلیئر اور ٹیکس ادا کرتے ہیں، ہم نے مکمل ایمانداری سے بزنس کیا جو کہ خسارے میں چلا گیا، کسی ایک ڈائریکٹر کا ایک پیسہ بھی استعمال نہیں کیا، تمام ریکارڈ موجود ہے اور ایف آئی اے کو دیکھا دیا گیا ہے.ایف آئی اے کے الزامات بے بنیاد ہیں، نجی آڈٹ فرم میری کمپنیوں کےاکاؤنٹس کوپہلےہی درست قراردےچکی ہے۔

تحریک انصاف کے سینئر رہنماء جہانگیر ترین کا رد عمل 

بیرون ملک بھیجوائے گئے تمام فنڈز قانونی طور پر بھیجے گئے، تمام شیئرزقانونی ،کھاتےقانون کےمطابق منتقل کیےگئے، تمام نقد رقوم کی منتقلی کے دستاویزات موجود ہیں۔ا نکم ٹیکس ادا کیاہر قسم کا تمام ٹیکس ریکارڈ بھی ظاہر کر دیا،جہانگیر ترین کامؤقف

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.