جسٹس فائز عیسیٰ کا مؤقف.
واقعے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے مؤقف دیتے ہوئے بتایا کہ میں نے کسی کی گرفتاری کا حکم نہیں دیا، میں حکم عدالت میں دیتا ہوں راہ چلتے نہیں، روزانہ پیدل سپریم کورٹ آتا ہوں، صبح پارلیمنٹ کے سامنے فٹ پاتھ پر مشکوک گاڑی سامنے آئی، مجھے نہیں معلوم گاڑی میں کون تھا، صرف پولیس سے گاڑی سے متعلق پوچھا، گاڑی میں بیٹھے شخص نے سخت زبان استعمال کی اور گاڑی پارلیمنٹ میں لے گیا۔
قاضی فائز عیسی نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں کو گاڑی چیک کرنے کا کہا، تو گاڑی کے ڈرائیور نے پارلیمنٹ سے واپس آکر پھر میرا راستہ روکا، گاڑی میں موجود نامعلوم شخص نے پھر برا بھلا کہا مگر میں خاموش رہا۔ میں نے غیر قانونی نمبر پلیٹ دیکھ کر پولیس کو صرف گاڑی چیک کرنے کا کہا تھا، لاقانونیت پر میں اپنے ڈرائیور کا بھی چالان کروا دیتا ہوں۔