فلسطینی بھائیوں کے حوالے سے اسرائیلی مظالم کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کے جذبات مجروح ھیں اللہ پاک ہمارے فلسطینی بھائیوں کو مظالم سے آزادی نصیب فرمائے۔ چیف ایڈیٹر PowerNewsAgency

جذبات کا اظہار
منتہی فاطمہ
سنو یہ مسجد اقصی سے کیا آواز آتی ہے
مسلمانوں میری حرمت پہ کٹ جانے کا وقت آیا
‘قدس کی بھیانک کیا تاریخ ہے نا’
ایک وہ وقت تھا جب حضرت سلیمان علیہ السلام کا جاہ جلال تھا عالی شان دربار تھا رعب ایسا کہ جانور بھی سر جھکادیتے ۔۔۔جنات ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ۔۔۔
حضرت سلیمان علیہ السّلام نے مسجد اقصی کی شکل میں ایک شاہکار جنات کے ذریعہ تعمیر کرایا ۔۔
بے حد پرکشش ایک مسجد جسے دیکھ کر لوگ رکیں پھر مڑیں پھر دوسری نظر ڈالیں اور کہیں سبحان اللہ ۔۔۔ یہی قدس جہاں آپ علیہ السلام نے امامت کرائی ۔۔ یہی قدس جسے عسائیوں ، یہودیوں نے قبضہ میں لے لیا ۔ اور خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پھر صلاح الدین ایوبی اور ان کے سپاہیوں نے ایمانی طاقت پرخلوص جذبہ اور اللہ اکبر کے نعرہ کے ساتھ اس کو فتح کیا ۔۔ دنیا نے دیکھی وہ عظیم الشان فتح وہ منظر جب فلسطینی اپنے ملک میں آزادی کا سانس لے رہے تھے ۔۔۔ جب ان کے دامن خوشی کے آنسو سے تر تھے ۔۔ تو اس وقت فضا مہک رہی تھی پورے عالم میں ایک خوشی ہی خوشی کا سماں تھا ۔۔ اور آج پھر دوبارہ قبضہ کرلیا گیا ۔۔ انبیاں کی سرزمین یہودیوں کے قبضے میں چلی گئی اب وہاں ہر گھڑی رونے سسکنے کی آوازیں آتی ہیں ۔۔ اب وہاں قدم قدم پر خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ۔۔ ہر بندہ اپنے گھر سے یے سوچ کر نکلتا ہے کہ آج میں اسرائیلی فوجی کی گولی کا نشانہ بن جاؤنگا ۔۔ ہر ماں اپنے بیٹے کو ہر بیوی اپنے شوہر اور ہر بیٹی اپنے باپ کو اس خوف سے نکلتا دیکھتی ہے کہ شاید اب کبھی ملاقات نہ ہو ۔۔۔ وہاں کا ہر شہری صلاح الدین ایوبی کا منتظر ہے ۔۔۔
آخر کب کوئ صلاح الدین ایوبی آئے گا اور ہم آزاد کہلائنگے ۔۔
قدس کی تاریخ بذات خود ایک فسانہ ایک حقیقت ایک درد ایک پکار
اے اللہ ایسا کون مسلم حکمران آئے گاجس کے زیر سایہ یہ نوجوان تاریخ دہرائیں گے؟
اٹھو! اے مسلم حکمرانوں کہ اللہ نے آپ کو قوت واقتدار دیا ہے۔۔ ۔۔ فلسطینی ماں کہتی ہے بیٹا جب تمہاری نعش آئے تو گولی کا نشان سینے پر موجود ہو ۔۔ بیٹا گولی کمر پر نہ کھانا ۔۔۔۔ بیٹا شہید یا غازی بن کر انا ۔۔ غدار بن کر مت انا۔۔۔کیا کوئ پیدا ھوگا صلاح الدین ۔۔۔ محمد بن قاسم ۔۔ طارق بن زیاد کہ مسلم امه منتظر ہے
یہی شیخ حرم ہے جو چرا کے بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذرؓ و دلق اویسؒ و چادر زہراؑ
علامہ اقبال