PNA
عظمت خان
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کا اجلاس جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقد ہوا.
دیوبند مسلک کی تمام دینی تنظیمیوں کے قائدین کے علاوہ نئے بورڈ بنانے والے مدارس میں جامعۃ الرشید ، جامعہ بنوریہ العالمیہ ، اشاعت التوحید والسنہ سمیت دیگر کو بھی مدعو کیا گیا تھا ۔
اجلاس میں جامعۃ الرشید کے کسی بھی نمائندے نے شرکت ہی نہیں کی ۔جب کہ جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کراچی کی جانب سے مولانا نعمان نعیم ، مولانا فرحان نعیم اور مولانا سیف اللہ ربانی شریک ہوئے اور انہوں نے اپنا مدعا وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کے سامنے رکھا ۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ ہمارا بنات کا شعبہ اور بیرون ممالک کے طلبہ کو مشکلات پیش آ رہی تھیں جس کی وجہ سے ہم نے ان کے ساتھ الحاق کیا ہے ۔
جب کہ جامعہ بنوریہ العالمیہ بدستور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ ملحق ہے ۔ جس کے بعد جامعہ بنوریہ العالمیہ کے علمائے کرام اجلاس سے آ گئے تھے اور اس کے بعد دیگر اراکین نے اجلاس جاری رکھا ۔
اجلاس جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، اہلسنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی ، پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی ، عالمی مجلس تحفط ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا ، جامعہ تعلیم القرآن کے مہتمم مولانا اشرف علی ، فیصل آباد سے جامعہ دارالقرآن سے مولانا قاری یسین ، مفتی غلام الرحمن ، خواجہ خان محمد ، جامعہ بیت السلام کے مہتمم مولانا عبدالستار ، مولانا فیض الرحمن عثمانی سمیت دیگر دیوبند مسلک کے جید علمائے کرام کو مدعو کیا گیا تھا ۔
جس میں مولانا فضل الرحمن نے مولانا حنیف جالندھری کو فون کر کے اجلاس میں شرکت کا عذر پیش کیا اور وفاق المدارس کے ہر فیصلے کی تائید کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ جب کہ اجلاس میں جامعہ الرشید سے مفتی عبدالرحیم اور اشاعت التوحید کے سربراہ مولانا طیب طاہری نہیں آئے ۔
مولانا قاری حنیف جالندھری نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں بتایا کہ مجلس عاملہ نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ جنہوں نے نئے بورڈ بنائے ہیں انہوں نے عملی طور پر خود کو وفاق سے الگ کر لیا ہے اور تاہم اجلاس میں طویل غور وخوص کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ جنہوں نے نئے وفاق بنائے ہیں ان کا الحاق ختم کیا جاتا ہے ۔
واضح رہے کہ اس اجلاس سے قبل مجلس شوری کے اجلاس بھی ہو چکے ہیں جن میں علمائے کرام اور وفاق المدارس کے علمائے کرام نے طویل غور و خوض کئے اور اس کے بعد مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد کر کے اس میں فیصلہ کیا گیا ہے ۔جس میں 98 فیصد علمائے کرام نے ان نئے بورڈ بنانے والوں کو وفاق سے الگ کرنے کا ہی مشورہ دیا ہے ۔
پاکستان میں وفاق المدارس کے ساتھ 21 ہزار 565 مدارس ، جامعات اور مکاتب رجسٹرڈ ہیں ۔ جن میں 28 لاکھ 66 ہزار 559 سے زائد ہے ۔ جن میں طلبہ کی تعداد 18 لاکھ 50 ہزار 526 اور طالبات کی تعداد 10 لاکھ 16 ہزار 33 سے زائد ہے ۔
واضح رہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحقہ ان 21 ہزار 565 مدارس میں سے بمشکل 100 مدارس و مکاتب وفاق سے الگ ہونگے اس کے علاوہ 21 ہزار 450 سے زائد دینی مدارس وفاق المدارس سے جڑے اکابر دیوبند کے کاز پر کاربند رہیں گے ۔
###############################################
اعلامیہ
*میڈیا سنٹر وفاق المدارس العربیہ پاکستان*
لاہور(22/مئی 2021ء) وفاق المدارس اور اہلسنت والجماعت علماء دیوبند کی تمام تنظیموں کا نمائندہ تاریخی اجتماع۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان پر بھرپور اعتماد اور ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی۔
مدارس کے نظام، نصاب اور حریت فکر وعمل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ۔
حالیہ دنوں میں قائم ہونے والے مدارس بورڈز کو مدارس کے نظام،اتحاد و اتفاق اور مدارس کی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا گیااوروفاق المدارس سے راہیں جدا کر کے نئے بورڈز بنانے والوں کا وفاق المدارس سے الحاق ختم کر دیا گیا تفصیلات کے مطابق وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ،مجلس شوری اور اہلسنت والجماعت دیوبندی مکتب فکر کی تمام نمائندہ جماعتوں اور اداروں کا ہنگامی،غیرمعمولی اور تاریخی اجتماع جامعہ اشرفیہ لاہور میں مولانا انوار الحق کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانامحمدحنیف جالندھری،مولانا مفتی مختار الدین شاہ،مولانا فضل الرحیم اشرفی،مولانامحمد احمد لدھیانوی، مولانااللہ وسایا، مولانا کفیل شاہ بخاری، مفتی محمدحسن، مولانا عبدالستار،مولانا حکیم مظہر،مولاناسعید یوسف، مولانا قاضی عبدالرشید، مولاناامداداللہ یوسف زئی،مولانا صلاح الدین، مولاناحسین احمد،مولانا زبیر احمد صدیقی،مولانا فیض الرحمن عثمانی،مولانااشرف علی،مولاناقاری حق نواز،مولانامفتی غلام الرحمن،مفتی محمد طیب،مولانا مطیع اللہ آغا،مولانا قاری عبدالرشید،مفتی محمد خالد،مولانا ارشاد احمد،مفتی طاھر مسعود،مولانا قاری محب اللہ،مولانا عبدالمنان،مولانا عبدالمجید
مولانا منظور احمد مینگل،،مولانا قاری محمد یاسین،،مفتی ظفر احمد قاسم،مولانا عبدالقدوس،،مولانا عبدالقدوس محمدی،مولانا طلحہ رحمانی،مولانا منظور احمد عباسی، مولانا فیض الرحمن عثمانی، مولانا ناصر سومرو،مولانا مطیع اللہ آغا،مولانا اصلاح الدین حقانی،قاضی ارشد الحسینی،قاری محمد عثمان،مولانا الیاس مدنی،مولانا ظہوراحمد علوی،مولانا عبدالغفار،مولاناعبد الرؤف فاروقی اور دیگر نے شرکت کی اس موقع پر ملک بھر سے آئے ہوئے قائدین،دینی مدارس کے ذمہ داران اور وفاق المدارس کی مجلس عاملہ اور مجلس شوری کے اراکین نے شرکت کی۔ تمام شرکاء نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان پر بھرپور اور غیر مشروط اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور ہر محاذ پر وفاق المدارس کے قائدین کے شانہ بشانہ کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا نمائندہ اجتماع کے تمام شرکاء نے متفقہ طور پر حالیہ دنوں میں بنائے گئے مدارس کے نئے بورڈز کو مدارس کے نظام ونصاب اور مدارس کی حریت و آزادی کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا- وفاق المدارس کی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے اجلاسوں کا جو تحریری فیصلہ جاری کیا گیا اس میں واضح کیا گیا کہ وفاق المدارس کی طرف سے اتفاق رائے سے یہ طے کیا گیا کہ حکومت کی طرف سے دینی مدارس کے جو نئے وفاق یا بورڈ منظور کئے گئے ہیں وہ چونکہ مستقل بورڈ ہیں جن کا دائرہ کار اور اہداف بھی مختلف ہیں.اس لئے جو مدارس ان نئے وفاقوں یا بورڈ سے ملحق ہوں گے ان کا یہ عمل بذات خود وفاق المدارس سے علیحدگی کا متقاضی ہے لہذا ایسے مدارس کا وفاق المدارس سے الحاق ختم کر دیا گیا یے- اجلاس کے دوران فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا،اسرائیلی مظالم اور جارحیت کی پرزور مذمت کی گئ اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے حوالے سے سرکاری اور سفارتی سطح پر کردار اداکرے-اجلاس کے شرکاء نے جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم،جامعہ اشرفیہ کی انتظامیہ، لاہور کے مدارس اور علماء کی رابطہ کمیٹی کے اراکین اور دفتر وفاق المدارس کے کارکنان اور وفاق المدارس کے ذمہ داران کو کامیاب اجتماع کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کیااجلاس میں ملک بھر کے تقریبا چار سو سے زائدعلماء نے شرکت کی۔
*جاری کردہ*
*میڈیا سینٹر وفاق المدارس العربیہ پاکستان*
*W M A S 0313*