PNA NEWS KAHANI
(ایک واقعے سے ماخوذٌایک کہانی ایک خبر)
کمرے میں مدھم روشنی تھی۔ سلیم خان بیوی کی بات سنتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
"سلیم! گرمی آنے والی ہے، ایک فریج لے آؤ نا…”
الفاظ نرم تھے مگر لہجے میں امید کا بوجھ تھا۔
سلیم، شہر کے ایک محلے کی مسجد کا امام اور پرائمری اسکول کا استاد، حساب کتاب کا عادی تھا۔
"بیوی کی خواہش جائز ہے، مگر اس قلیل آمدنی میں کیسے؟” دل میں سوچ آیا۔
کچھ دن بعد کمیٹی کا قرعہ نکلا — ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہاتھ آئے۔ پہلی بار اتنی بڑی رقم دیکھی تو دل میں ایک عجیب سا سرور پیدا ہوا۔
مگر خوش خبری دیر تک چھپی نہ رہی۔ اگلے دن محلے کا پرانا دوست رشید مسکراتا ہوا آ گیا:
"یار سلیم، سنا ہے کمیٹی نکلی ہے، بیس ہزار دے دے، ایک کام ہے، جلد واپس کر دوں گا۔”
سلیم نے ٹالنے کے انداز میں کہا: "یار، دو دن رک جا، فریج لینا ہے، جو بچا، تیرا۔”
رشید تو چلا گیا مگر اب روز فون کرتا:
"لیا فریج؟ کب لے رہے ہو؟ فلاں مارکیٹ میں سستا ہے، چلیں چلتے ہیں۔”
اسی دوران سلیم کے فون پر فیس بک اشتہار آنے لگے — "سیکنڈ ہینڈ فریج، انتہائی کم قیمت میں، پورے پاکستان میں ڈیلیوری”۔
ایک دن ایک ویڈیو نظر آئی۔ ایک خوش لباس شخص گودام میں کھڑا تھا، اردگرد فریج، واشنگ مشینیں، اوون کا ڈھیر۔
"یہ سب ریٹیل قیمت سے آدھے دام پر، رمضان آفر میں!”
سلیم نے نمبر ملایا۔
"جی سر! یہ والا چھوٹا فریج 22 ہزار کا دے دیں گے، بس 7500 سیکیورٹی فیس ایڈوانس۔”
"پھر باقی؟”
"سامان پہنچنے پر۔”
سلیم نے اللہ کا نام لے کر 7500 بھیج دیے۔ رسید آئی، پھر 14500 کا مطالبہ ہوا۔
"یہ بقایا ہے سر، باقی کچھ نہیں دینا۔”
چند گھنٹے بعد میسج آیا: "ڈیلیوری اور انشورنس کا 9520 بھیج دیں، انشورنس بعد میں واپس ہو گی۔”
سلیم نے بھیج دیا۔ مگر پھر ایک اجنبی نمبر سے کال آئی، لہجہ سخت:
"آپ نے فریج منگوایا ہے؟ یہ نان کسٹم سامان ہے، کلیئرنس رپورٹ کے بغیر نہیں جا سکتا۔”
سلیم نے بیچنے والے کو فون کیا، وہ گھبرائی آواز میں بولا:
"بھائی، گودام پر پولیس چھاپہ پڑ گیا ہے۔ سامان بچانا ہے تو کسٹم والوں کو دے دلا دو۔”
کسٹم والے نے کہا: "کلئیرنس کے لیے 15520 روپے دو۔”
سلیم نے بھیج دیے۔
چند گھنٹے بعد وہی آواز، اس بار زیادہ خوفناک:
"آپ کے پارسل سے آئی فون نکلا ہے، کیا اسمگلنگ کرتے ہیں؟”
سلیم کے گلے میں کانٹا اٹک گیا: "جناب، میں تو امام ہوں… آپ موبائل رکھ لیں، میرا فریج دے دیں۔”
"ہم حرام نہیں کھاتے! ٹیکس دو، ورنہ کیس درج کروا دیں گے۔”
42 ہزار 620 روپے کا ٹیکس بھی چلا گیا۔
پھر پیغام آیا: "موبائل نان پی ٹی اے ہے، اپروول کے 52500 لگیں گے۔”
سلیم نے تین قسطوں میں یہ بھی دے دیا۔
اب تک ایک لاکھ 41 ہزار جا چکے تھے، مگر دھوکہ ختم نہیں ہوا۔
"سیکیورٹی کے 1 لاکھ 20 ہزار 500 دیں، سامان ملنے کے بعد واپس ہو جائے گا۔”
جیب خالی تھی، اس لیے دوستوں سے قرض لیا:
پچاس ہزار صابر سے، تیس ہزار نادر سے، اور تیس ہزار انور سے۔
دو لاکھ 51 ہزار دینے کے بعد بھی پیغام آیا:
"آپ نے دیر کر دی، فائل ہولڈ ہو گئی ہے، 75 ہزار اور دیں۔”
اس بار سلیم کے پاؤں زمین سے جُھل گئے۔
کمیٹی ختم، تنخواہ ختم، ایک لاکھ دس ہزار قرض کا بوجھ… اور فریج کا کہیں نشان نہیں۔
—
اختتامیہ منظر
سلیم مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا۔ اذان دینے کا وقت قریب تھا، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
دو آنسو گرے، اور وہ خود سے بولا:
"میں کیسے لٹا؟ شاید اس لیے کہ میں بھولا تھا… شاید اس لیے کہ میں مروّت والا تھا… مگر اصل میں اس لیے کہ میں نے اعتماد غلط جگہ کر لیا۔”
—
ادارتی تبصرہ
چیف ایڈیٹرکے قلم سے
یہ کہانی محض ایک شخص کی نہیں، آج کے پاکستان میں ہزاروں سلیم خان ہیں۔بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے ایک حقیقی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی کے پاس اچانک پیسہ آ جائے تو اردگرد کے لوگ تقاضے شروع کر دیتے ہیں، اور ایسے میں آن لائن دھوکے باز موقع سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ریکارڈ مطابق، پاکستان میں سائبر اور مالیاتی فراڈ کے درج شدہ کیسز میں سے صرف کچھ فیصد ہی متاثرین کو جزوی یا مکمل ریلیف ملا۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شہری اگر خود احتیاط نہ کریں تو ایسے جرائم سے بچاؤ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ عوامی آگاہی، فوری ردعمل،شکایات درج کرانے کا ٓاسان طریقہ، شفاف تحقیقات اوربلا امتیاز کاروائیاں اور جدید سہولیات سے لیس ہی اس مسئلے کا واحد حل ہیں۔
ایک موقر اخبار کی اشاعت مختلف اعداد و شمار کی روشنی میں نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی سابقہ (ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ) نے گزشتہ 5 برسوں میں شہریوں کے ساتھ ملک بھر میں پیش آنے والی 6 لاکھ سے زائد وارداتوں کے رپورٹ ہونے کے باوجود بھی بہت کم یعنی ہونے 6 ہزار وارداتوں پر مقدمات درج کیے۔ جبکہ صرف 73 ہزار شکایتوں پر تحقیقات کے لئے انکوائریوں کی منظوری ہوئی۔ جس کی سب سے بڑی وجہ جدید آلات کی کمی اور قابل افرادی قوت کا فقدان سامنے آیا ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عملی سطح پر یہ کوششیں ابھی تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 6 لاکھ 39 ہزار 564 شکایات موصول کی.
آن لائن مارکیٹ، سوشل میڈیا اشتہارات، جعلی ڈیلیوری کمپنیاں، اسکیم اور اس کہانی میں خود ساختہ ” افسر” — یہ سب ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ نہ عوام ایسے واقعات سے سبق لیتی ہے، نہ ہی متعلقہ ادارے بروقت اور مؤثر کارروائی کر پاتے ہیں۔
ایف آئی اے، سائبر کرائم ونگ اور ٹیلی کمیونیکیشن ادارے تمام سہولتوں کے باوجود ایسے گروہوں کو جڑ سے اکھاڑنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ور ان کی وجہ ان رپورٹس میں موجود ہیں جو وقتا فوقتا شائع ہوتی رہتی ہیں۔
جب تک لوگ حسنِ ظن کو اندھا اعتماد بنائے رکھیں گے، اور ادارے موثر اور مکمل قابو نہیں پا لیں گے تب تک سلیم جیسے لوگ لٹتے رہیں گے… اور لٹنے کے بعد صرف ایک سوال دہراتے رہیں گے:
"میں کیسے لٹا؟”