صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سندھ سید سردار شاہ سے یونیسیف کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات

 Report PNA

یونیسیف کے وفد کی سربراہی یونیسف ہیڈ کوارٹر کے شعبہ تعلیم کے گلوبل ڈائریکٹر رابرٹ گورڈن جینکنز کر رہے تھے۔

وفد میں یونیسیف کے ایڈوائیزر پیٹر ڈی ورائز، یونیسیف پاکستان کی ایجوکیشن چیف ایلن وین کامتھوٹ اور دیگر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ اکبر لغاری اور محکمہ تعلیم سندھ کے افسران نے شرکت کی۔

ملاقات کا مقصد یونیسیف اور عالمی کمیونٹی کو سیلاب کے نقصانات اور سندھ میں تعلیم بحالی اور تدریسی عمل کو جاری رکھنے کے تعاون کو مزید تیز کرنا ہے۔

محکمہ تعلیم سندھ کی طرف سے سیلاب کے بعد ہونے والے نقصان کے سلسلے میں کئی گئی سروے کی ابتدائی تفصیلات پر بریفنگ دی گئی۔

سیلاب کے بعد اسکولوں کے ہونے والے اس سروے میں یونیوسیف پاکستان کی طرف سے تکنیکی ماونت بھی فراہم کئی گئی ہے۔

پہلی دفعہ بچوں کو اس طرح کے ماحول سامنا کرنا پڑا ہے، سیلاب متاثرین بچے کئی سماجی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ یونیسف وفد

اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے اسکول انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ سید سردار شاہ

نقصان اتنا بڑا ہے کہ ہم اکیلے اس وقت کچھ نہیں کر سکتے۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ

یہ عالمی دنیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سیلاب متاثرین بچوں کی تعلیم و تربیت کی بحالی کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ سردار شاہ

ہمارے پاس اچھے اساتذہ موجود ہیں، جو ہر قسم کے حالات میں بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ

یونیسیف نے سندھ میں دو ہزار ہے زائد ٹیمپرری لرننگ سینٹرز قائم کرنے میں مدد کی۔ سردار شاہ

اس وقت تدریسی عمل کو بحال رکنے کے لیے ہمیں 20 ہزار ٹینٹ کلاس رومز کی ضرورت ہے۔ سردار شاہ

بچوں کی حفاظت کے پیش نظر ہم کمزور شدہ اسکول کی عمارتوں میں بچوں کو نہیں بٹھا سکتے۔ سردار شاہ

یونیسف ہیڈ کوارٹر کے شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر رابرٹ گورڈن جینکنز نے کہا کہ سیلاب کے بعد محمکہ اسکول ایجوکیشن نے بروقت اقدامات کئی اور انہوں نے ہونے والے نقصان کے متعلق اسکول ایجوکیشن کے سروے کے عمل کو سراہا۔

بچوں کی اپنے علاقوں کی طرف واپسی کے بعد تعلیمی سلسلے کو بحال رکھنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ یونیسف ہیڈ کوارٹر کے شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر رابرٹ گورڈن جینکنز

کرونا کی وجہ سے پہلے ہی تدریسی عمل کا بہت بڑا نقصان ہوچکا ہے۔ رابرٹ گورڈن جینکنز

کرونا کے دوران ڈجیٹل لرننگ جیسے مواقع ملے ہیں، اس طرح کے دیگر اور بھی طریقیکار ہیں جن سے بچوں کو تعلیم دی جا سکتی ہے۔ رابرٹ گورڈن جینکنز

سندھ میں تعلیم کے شعبے میں ایک بلین ڈالر تک کا نقصان ہوا ہے۔ یونیسیف پاکستان کی ایجوکیشن چیف ایلن وین کامتھوٹ

عورت اساتذہ کی بڑے پیمانے پر بھرتیاں ایک اچھا عمل ہے۔ ایلن وین کامتھوٹ

اس موقع پر آر ایس یو کی جانب سے سیلاب کے بعد کئے گئے سروے کی بنیاد پر بناۓ ڈیش بورڈ پر تفصیلی آگاہی دی گئی۔

سندھ میں 44219 اسکولز میں سے سیلاب سے 47 فیصد اسکولز مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوۓ ہیں۔ آگاہی

ابتدائی سروے کی مطابق 12664 اسکولز جزوی اور 7938 اسکولز مکمل طور پر متاثر ہوۓ ہیں۔ تفصلات

سیلاب سے سندھ میں 2027356 بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ آگاہی

اس موقع پر وفد نے محکمہ تعلیم سندھ کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

گلوبل پارٹنرز، کمیونٹیز اور فورمز پر سندھ کی تعلیم کی بحالی کے لیے کیس پیش کریں گے۔ یونیسف وفد

یونیسیف کے وفد کی سربراہی یونیسف ہیڈ کوارٹر کے شعبہ تعلیم کے گلوبل ڈائریکٹر رابرٹ گورڈن جینکنز کر رہے تھے۔

وفد میں یونیسیف کے ایڈوائیزر پیٹر ڈی ورائز، یونیسیف پاکستان کی ایجوکیشن چیف ایلن وین کامتھوٹ اور دیگر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ اکبر لغاری اور محکمہ تعلیم سندھ کے افسران نے شرکت کی۔

ملاقات کا مقصد یونیسیف اور عالمی کمیونٹی کو سیلاب کے نقصانات اور سندھ میں تعلیم بحالی اور تدریسی عمل کو جاری رکھنے کے تعاون کو مزید تیز کرنا ہے۔

محکمہ تعلیم سندھ کی طرف سے سیلاب کے بعد ہونے والے نقصان کے سلسلے میں کئی گئی سروے کی ابتدائی تفصیلات پر بریفنگ دی گئی۔

سیلاب کے بعد اسکولوں کے ہونے والے اس سروے میں یونیوسیف پاکستان کی طرف سے تکنیکی ماونت بھی فراہم کئی گئی ہے۔

پہلی دفعہ بچوں کو اس طرح کے ماحول سامنا کرنا پڑا ہے، سیلاب متاثرین بچے کئی سماجی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں۔ یونیسف وفد

اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے اسکول انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ سید سردار شاہ

نقصان اتنا بڑا ہے کہ ہم اکیلے اس وقت کچھ نہیں کر سکتے۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ

یہ عالمی دنیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سیلاب متاثرین بچوں کی تعلیم و تربیت کی بحالی کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ سردار شاہ

ہمارے پاس اچھے اساتذہ موجود ہیں، جو ہر قسم کے حالات میں بچوں کو پڑھا سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ

یونیسیف نے سندھ میں دو ہزار ہے زائد ٹیمپرری لرننگ سینٹرز قائم کرنے میں مدد کی۔ سردار شاہ

اس وقت تدریسی عمل کو بحال رکنے کے لیے ہمیں 20 ہزار ٹینٹ کلاس رومز کی ضرورت ہے۔ سردار شاہ

بچوں کی حفاظت کے پیش نظر ہم کمزور شدہ اسکول کی عمارتوں میں بچوں کو نہیں بٹھا سکتے۔ سردار شاہ

یونیسف ہیڈ کوارٹر کے شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر رابرٹ گورڈن جینکنز نے کہا کہ سیلاب کے بعد محمکہ اسکول ایجوکیشن نے بروقت اقدامات کئی اور انہوں نے ہونے والے نقصان کے متعلق اسکول ایجوکیشن کے سروے کے عمل کو سراہا۔

بچوں کی اپنے علاقوں کی طرف واپسی کے بعد تعلیمی سلسلے کو بحال رکھنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ یونیسف ہیڈ کوارٹر کے شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر رابرٹ گورڈن جینکنز

کرونا کی وجہ سے پہلے ہی تدریسی عمل کا بہت بڑا نقصان ہوچکا ہے۔ رابرٹ گورڈن جینکنز

کرونا کے دوران ڈجیٹل لرننگ جیسے مواقع ملے ہیں، اس طرح کے دیگر اور بھی طریقیکار ہیں جن سے بچوں کو تعلیم دی جا سکتی ہے۔ رابرٹ گورڈن جینکنز

سندھ میں تعلیم کے شعبے میں ایک بلین ڈالر تک کا نقصان ہوا ہے۔ یونیسیف پاکستان کی ایجوکیشن چیف ایلن وین کامتھوٹ

عورت اساتذہ کی بڑے پیمانے پر بھرتیاں ایک اچھا عمل ہے۔ ایلن وین کامتھوٹ

اس موقع پر آر ایس یو کی جانب سے سیلاب کے بعد کئے گئے سروے کی بنیاد پر بناۓ ڈیش بورڈ پر تفصیلی آگاہی دی گئی۔

سندھ میں 44219 اسکولز میں سے سیلاب سے 47 فیصد اسکولز مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوۓ ہیں۔ آگاہی

ابتدائی سروے کی مطابق 12664 اسکولز جزوی اور 7938 اسکولز مکمل طور پر متاثر ہوۓ ہیں۔ تفصلات

سیلاب سے سندھ میں 2027356 بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ آگاہی

اس موقع پر وفد نے محکمہ تعلیم سندھ کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

گلوبل پارٹنرز، کمیونٹیز اور فورمز پر سندھ کی تعلیم کی بحالی کے لیے کیس پیش کریں گے۔ یونیسف وفد

Comments (0)
Add Comment