Report
PNA/HYD
پاکستان شوگر ملز ایسوایشن (مرکز)کی جنرل باڈی کا اجلاس ہو ا جس کی صدارت مرکزی چئیرمین عاصم غنی عثمان نے کی۔ اجلاس میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخواہ کے ممبران کثیر تعداد میں شامل تھے۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جب تک موجودہ حکومت اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت نہیں دے گی تب تک کو ئی شوگر مل چلنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔
ترجمان نے کہا کہ اس وقت شوگر انڈسٹری کے پاس 15 جنوری، 2023 تک کے اسٹاک موجود ہیں اورانڈسٹری کے پاس صرف دو ہی آپشن ہیں کہ کرشنگ سیزن میں تاخیر کی جائے تاکہ 15 جنوری تک کا اسٹاک ختم ہو جائے یا پھرحکومت 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے تا کہ ملک کیلئے ایک اَرب ڈالر تک کا غیر ملکی زرِمبادلہ حاصل کیا جا سکے اور شوگر ملیں کرشنگ سیزن کا آغاز کر سکیں۔
شوگر ملز ایسو ایشن کے چئیرمین عاصم غنی عثمان اور تما م ایگزیکٹو ممبران نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کل بروز جمعہ (18 نومبر)کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں دن 11 بجے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔