PNA/HYD-24/7
ایم کیو ایم لندن کے دو رہنما امن و امان میں رخنہ ڈالنے کے الزام میں کراچی میں گرفتار
ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کنور خالد یونس اور مومن خان مومن کو نوے دن کے لئے حراست میں لے لیا گیاایم کیو ایم لندن کے دونوں رہنماؤں کو چھ روز قبل ایم کیو ایم لندن نے پاکستان میں اپنا نمائند مقرر کیا تھاایم کیو ایم لندن کے رہنما غیر قانونی سرگرمیوں اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے میں معاون ہوسکتے ہیں،محکمہ داخلہ سندھ
مومن خان مومن اور کنور خالد یونس کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کی جانوں کو خطرہ ہے، محکمہ داخلہ سندھ
انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر دونوں کو نوے دن کے لئے حراست میں لیا گیا، محکمہ داخلہ سندھ.
BBC کے مطابق
کنور خالد یونس ایم کیو ایم کے دیرینہ رکن رہے ہیں۔ سنہ 1988 کے الیکشن سے لے کر 2008 کے انتخابات تک وہ چار مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کا تعلق ایم کیو ایم کے نظریاتی شعبے سے تھا جس کو تحریکی بھی کہا جاتا تھا۔
کنور خالد انگریزی روزناموں میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے رہے ہیں جن میں وہ شہری و سیاسی مسائل کے علاوہ ایم کیو ایم کا نکتہ نگاہ بھی بیان کرتے تھے۔ جب ایم کیو ایم کی معروف قیادت نے الطاف حسین سے تعلق ختم کیا تو وہ لندن کی قیادت کے ساتھ رہے۔
مومن خان مومن کا تعلق سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) سے کیا تھا۔ وہ بعد میں کراچی میں طلبہ تنظیموں میں متحرک رپے۔
مومن خان حیدرآباد میں سٹریٹ تھیٹر سے لے کر سماجی تبدیلی کی تحریک میں سرگرم ہوئے۔ جب بائیں بازو کے استاد پروفیسر حسن عارف نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی تو وہ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ جب ایم کیو دھڑے بندی کا شکار ہوئی تو وہ لندن گروپ کے ساتھ رہے۔