قارئین کی آراء اور حقائق کی روشنی میں ایک تجزیاتی جائزہ
PNA
چیف ایڈیٹر پی این اے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤنے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں طرف سے بیانات آ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کشیدگی نے عالمی معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس جنگ میں دو کردار زیادہ نمایاں ہیں: ایک طرف عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا خوف، اور دوسری طرف عرب اور غیر عرب مسلم ممالک کا اس جنگ سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ۔
عالمی معیشت پر خوف: غیر جانبدار بھی محفوظ نہیں
مشہور ماہر اقتصادیات جیفری سیکس نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ایشیا کی یہ جنگ عالمی معیشت کو تباہ کر سکتی ہے جب تک کہ برکس ممالک اس میں مداخلت نہ کریں ۔ انہوں نے سی این بی سی ٹی وی 18 کو انٹرویو میں کہا کہ "یہ جنگ چاں ہفتوں میں ختم نہیں ہو گی۔ یہ جنگ ایک معاشی تباہی پیدا کرے گی جب تک کہ برکس ممالک امریکہ اور اسرائیل سے کہیں کہ آپ کو روکنا ہو گا۔ آپ کو پوری دنیا کی معیشت کو تباہ کرنے کا کوئی حق نہیں” ۔
عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرہ۔ مغربی ایشیا کا خطہ عالمی تیل کی برآمدات میں اہم حصہ رکھتا ہے، اور کوئی بھی کشیدگی آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں کو متاثر کر سکتی ہے، جو ایشیا کو خام تیل کی سپلائی کا کلیدی راستہ ہے ۔ انٹرنیشنل گروپ ING کی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے عالمی تیل اور گیس کی 20 فیصد نقل و حمل ہوتی ہے ۔ اس راستے کی بندش کے خدشے نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو 2022 کی یاد تازہ کر رہا ہے جب تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا تھا ۔
چین جیسی بڑی معیشت بھی خطرے میں۔ چین کی معیشت بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایران چین کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل فراہم کنندہ ہے (درآمد کا 10 سے 13 فیصد) ۔ تنازع نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور نقل و حمل کے راستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے چین کی توانائی درآمدی لاگت اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو گا ۔ چین کے مغربی ایشیا میں 89 ارب ڈالر سے زائد براہِ راست سرمایہ کاری ہے ، اور درجنوں چینی کمپنیوں نے اسرائیل کے حیفہ پورٹ سے لے کر امارات کے خلیفہ پورٹ تک بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے ۔
یورپ اور دیگر ممالک بھی متاثر۔ ING کے ماہرین کے مطابق، اگرچہ یورپ نے 2022 کے بعد توانائی کے ذرائع متنوع کر لیے ہیں، مگر آبنائے ہرمز کی طویل بندش یورپ کی نئی تجارتی شراکت داریوں کو آزمائش میں ڈال سکتی ہے ۔ فلپائن جیسے ممالک بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں، جہاں پچاس ملین سے زائد تارکین وطن کارکنان (بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، فلپائن) کی زندگیاں اور روزگار خطرے میں ہیں ۔
مسلم ممالک کا کردار جنگ سے علیحدگی پر زور دیتا ھے یہ
اس جنگ کا دوسرا اہم پہلو ہے کہ عرب اور غیر عرب مسلم ممالک نے بڑی حد تک اس جنگ سے علیحدہ رہنے کی کوشش کی ہے۔ 21 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں ایران پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے ۔
21 ممالک کا مشترکہ بیان۔ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، پاکستان، بحرین، برونائی، ترکی، چاڈ، گیمبیا، الجزائر، کوموروس، جبوتی، سعودی عرب، سوڈان، صومالیہ، عراق، عمان، قطر، کویت، لیبیا، اور موریطانیہ کے وزرائے خارجہ نے درج ذیل نکات پر زور دیا:
ایران کے خلاف اسرائیل کے حملوں کی مذمت
ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور
کشیدگی کے خطرناک اضافے پر گہری تشویش
ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کو روکنے کی ضرورت
جوہری ہتھیاروں سے پاک مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت
جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز
مذاکراتی عمل کی واپسی کا مطالبہ
بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں نقل و حرکت کی آزادی کے احترام پر زور
سفارت کاری، مکالمہ، اور ہمسایہ ممالک کے اصولوں کی پاسداری
یہ پہلی بار ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر عرب اور مسلم ممالک نے ایران کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم ممالک اس جنگ میں کودنے کے بجائے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔
شاید امریکہ کو توقع تھی کہ مسلم ممالک ایران کے خلاف جنگ میں کود جائیں گے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا،خیال درست ہو سکتا ہے؟
لاس ویگس ریویو جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے عرب پڑوسی ممالک پر حملوں نے انہیں ناراض کر دیا ہے ۔ ایک عرب سفارت کار نے این بی سی نیوز کو بتایا: "ہمیں اس صورتحال میں ڈال دیا گیا ہے؛ ہمیں اس سے نمٹنا ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ایران کا عرب پڑوسیوں پر حملہ کرنا بہت بڑی غلطی تھی۔ لوگ ناراض ہیں۔ انہیں ہمارے اڈوں پر حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا” ۔
تاہم، اس ناراضگی کے باوجود، چھ عرب ممالک—بحرین، اردن، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر—نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں "ایران کے خودمختار علاقوں پر اندھا دھند اور لاپروائی سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں” کی مذمت کی ۔ مگر یہ مذمت بھی ایران کے خلاف جنگ میں کودنے کے بجائے، کشیدگی کم کرنے پر زور دیتی ہے۔
جبکہ ایران نے اپنے موقف میں ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کیا ہے
ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تجدید کے امکان کو مسترد کر دیا ہے ۔ انہوں نے پی بی ایس نیوز کو انٹرویو میں کہا: "امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا دوبارہ سوال میز پر نہیں آئے گا، کیونکہ ہمیں امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا بہت تلخ تجربہ ہے” ۔
تیل کی پیداوار اور نقل و حمل میں رکاوٹوں پر عراقچی نے ایرانی ذمہ داری سے انکار کیا ۔ انہوں نے کہا: "یہ ہمارا قصور نہیں۔ یہ ہمارا منصوبہ نہیں ہے۔ تاخیر ‘اسرائیلیوں اور امریکیوں کی ہم پر حملوں اور جارحیت’ کی وجہ سے ہو رہی ہے، جس نے پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹینکرز، جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے سے ڈرتے ہیں” ۔
عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران خطے میں امریکی اڈوں، تنصیبات اور اثاثوں کو نشانہ بنائے گا ۔ انہوں نے کہا: "اور اس کے نتیجے میں، جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔
یہ بات تو طے ہے کہ کشیدگی نا صرف امریکہ، ایران، اسرائیل، چینوں کے حق میں نہیں ہے بلکہ عالمی معاشرت اور معیشت کے لیے شدید خطرہ ہے”، یہ بالکل درست ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس جنگ کے نتیجے میں
عالمی تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں
· مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے
· عالمی تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں
· لاکھوں تارکین وطن کارکنان کی زندگیاں اور روزگار خطرے میں ہیں
· ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں
جیفری سیکس کے مطابق، "یہ جنگ آج ختم ہو سکتی ہے اگر اسرائیل اور امریکہ اپنی جارحیت ختم کر دیں” ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے مقاصد کے حصول کا دعویٰ کر رہے ہیں، جبکہ عالمی معیشت اس کشیدگی کی قیمت چکا رہی ہے۔
مسلم ممالک کا اس جنگ سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ ایک اہم موڑ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک اس کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ بیس سے زائد ممالک کا مشترکہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا اس جنگ میں کودنے کے بجائے، امن اور استحکام کے حق میں ہے ۔
کیونکہ جدید معیشت میں سب سے مہنگی چیز بارود نہیں، بے یقینی ہوتی ہے۔ اور اس بے یقینی کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے—خواہ وہ جنگ زدہ علاقے ہوں یا نام نہاد غیر جانبدار ممالک۔ کشیدگی میں کمی کے آثار: عالمی تیل منڈی میں راحت اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی—خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤکے خاتمے سے متعلق کچھ مثبت اشارے گردش میں ہیں۔ امریکی صدر کے بیان، عالمی سفارتی کوششوں اور حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے مثبت اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔
سفارتی کوششوں کے ثمرات اچھے پڑے ھیں
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات نے کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے۔ عمان کے وزیرخارجہ سید بدر البوسعیدی کے مطابق، دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات میں "اہم پیشرفت” ہوئی ہے 。 اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، لیکن طے پایا ہے کہ اگلے ہفتے ویانا میں تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھے جائیں گے 。
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ان مذاکرات کو "اب تک کی سب سے سنجیدہ بات چیت” قرار دیا اور کہا کہ "کچھ معاملات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، جبکہ دیگر پر اختلافات برقرار ہیں” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع "جلد ختم” ہو سکتا ہے ۔
تیل کی عالمی منڈی میں مثبت اثرات بھی ھیں
سفارتی کوششوں اور کشیدگی میں کمی کے آثار کے باعث عالمی تیل منڈی میں قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے :
برینٹ کروڈ 98.96 ڈالر فی بیرل سے گر کر 88.22 ڈالر فی بیرل پر آ گیا (10.85 فیصد کمی)
· کموڈٹی مارکیٹ میں تیل کے فیوچرز 87.94 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہے ہیں (7 فیصد سے زائد کمی)
· عالمی تیل کی قیمتیں 30 فیصد تک گر گئی ہیں
امریکی صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ "تیل کی قلیل المدتی بلند قیمتیں ایران کے ایٹمی خطرے کے خاتمے کے بعد تیزی سے گر جائیں گی، اور یہ امریکہ اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک بہت چھوٹی قیمت ہے” ۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی
عالمی تیل منڈی میں قیمتوں میں کمی اور کشیدگی میں کمی کے آثار نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی مثبت اثر ڈالا ہے :
· کے ایس ای 100 انڈیکس 9,696.98 پوائنٹس (6.62 فیصد) کے اضافے کے ساتھ 156,177.12 پر بند ہوا
· یہ پی ایس ایکس کی تاریخ کی سب سے بڑی ایک روزہ فیصدی تیزیوں میں سے ایک ہے
· کے ایس ای 30 انڈیکس میں 5 فیصد اضافے کے باعث مارکیٹ عارضی طور پر روک دی گئی (سرکٹ بریکر ایکٹیویٹ)
· مارکیٹ میں 95 کمپنیاں بڑھیں، جبکہ صرف 2 میں کمی ہوئی
· سیکٹر کی سطح پر کمرشل بینک، فرٹیلائزر، سیمنٹ اور آئل اینڈ گیس میں تیزی
سفارتی کوششیں جاری ھیں
خلیجی ممالک بھی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، تین خلیجی ممالک (سعودی عرب، قطر اور عمان) نے واشنگٹن کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے باز رہنے پر آمادہ کیا ۔
امریکی اڈوں سے طیارے جو قطر کے العدید ایئر بیس سے روانہ ہوئے تھے، آہستہ آہستہ واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں، اور پہلے سے نکالے گئے عملے کو واپس جانے کی اجازت دی گئی ہے ۔
مستقبل کا منظرنامہ ہوں بنتا ھے کہ
اگرچہ کشیدگی کے مکمل خاتمے کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن موجودہ اشارے مثبت ہیں۔ ویانا میں طے شدہ تکنیکی مذاکرات کے نتیجے میں مزید پیشرفت کی توقع ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق، اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو تیل کی قیمتیں مزید مستحکم ہو سکتی ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ریلیف ملے گا، بلکہ عالمی معیشت بھی اس کشیدگی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گی۔
کیونکہ جدید معیشت میں سب سے مہنگی چیز بارود نہیں، بے یقینی ہوتی ہے۔ اور بے یقینی کے خاتمے کے یہ مثبت آثار پوری دنیا کے لیے خوش آئند ہیں۔۔ عرب ممالک کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش – لنڈسے گراہم کا دھمکی آمیز بیان
0مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤمیں ایک نیا اور خطرناک موڑ اس وقت آیا جب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو واضح دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیتے تو "نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں” ۔ یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عرب ممالک کو جنگ میں دھکیلنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔
گراہم کا دھمکی آمیز بیان
ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے 9 مارچ 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک سلسلہ وار پیغامات میں سعودی عرب پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "میری معلومات کے مطابق، سعودی عرب اپنی طاقتور فوج کو ایران کے وحشیانہ اور دہشت گرد ریجیم کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کر رہا ہے، جس نے پورے خطے میں دہشت پھیلا رکھی ہے اور 7 امریکی شہریوں کو ہلاک کیا ہے” ۔
گراہم نے سوال اٹھایا کہ "آخر کیوں امریکہ سعودی عرب جیسے ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرے جو مشترکہ مفاد کی جنگ میں حصہ لینے کو تیار نہیں؟” ۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی شہری مر رہے ہیں اور امریکہ اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب محض بیانات جاری کر رہا ہے اور پس پردہ معمولی مدد فراہم کر رہا ہے” ۔
گراہم کا سب سے خطرناک پیغام وہ تھا جس میں انہوں نے کہا کہ "امید ہے کہ خلیجی ممالک اس جنگ میں زیادہ شامل ہوں گے جو ان کے گھر کے پچھواڑے میں لڑی جا رہی ہے۔ اگر یہ جلد نہیں بدلتا تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں” ۔
یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب امریکی سفارتخانے ریاض میں ایران کے ڈرون حملوں کا نشانہ بنے تھے اور امریکی محکمہ خارجہ نے تمام غیر ضروری عملے کو سفارتخانے سے نکالنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
دفاعی معاہدے کا پس منظر
گراہم کے بیانات اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جب ہم امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مئی 2025 میں طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے کو دیکھتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت طے پانے والے اس 142 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جدید ترین جنگی سازوسامان فراہم کیا جانا تھا، جس میں F-35 جنگی طیارے بھی شامل ہیں، جو عام طور پر امریکہ کے قریبی اتحادیوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں ۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرنی تھی ۔ گراہم نے اس معاہدے کو سوالیہ نشان بناتے ہوئے کہا کہ اگر سعودی عرب جنگ میں حصہ لینے کو تیار نہیں تو پھر امریکہ کو یہ معاہدہ کیوں جاری رکھنا چاہیے ۔
اب اس سلسلے میں سعودی عرب کا مؤقف یہ ھےکہ
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مملکت اپنی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق رکھتی ہے” ۔ سعودی عرب نے ایران کے حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے” ۔
تاہم، سعودی عرب نے ابھی تک ایران کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس جنگ میں کودنے کے بجائے سفارتی راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔
مشہور امریکی صحافی میگن کیلی نے گراہم کے بیانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "لنڈسے گراہم کب ہمارے صدر بن گئے؟ انہوں نے 24 گھنٹوں کے اندر لبنان، کیوبا، سعودی عرب، پورے عرب خطے اور سپین کو دھمکیاں دے دیں” ۔
کیلی نے مزید کہا کہ "یہ شخص ایک قتل و غارت کا دیوانہ ہے جس کی خون کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔ اس نے ہمیں ایرانی جنگ میں دھکیل دیا، اب وہ چاہتا ہے کہ ہم لبنان اور کیوبا میں بھی جنگ لڑیں” ۔
عرب ممالک کا یہ دانشمندانہ مؤقف ہے
گراہم کے ان بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ چاہتا تھا کہ عرب ممالک ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست کود پڑیں۔ لیکن عرب ممالک—بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان نے بہت حد تک اس جنگ سے علیحدہ رہنے کی دانشمندانہ حکمت عملی اپنائی ہے۔
21 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں ایران پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی گئی، لیکن اس کے ساتھ ہی کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور دیا گیا ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم ممالک اس جنگ میں کودنے کے بجائے، امن اور استحکام کے حق میں ہیں۔
لنڈسے گراہم کا یہ دھمکی آمیز بیان واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ عرب ممالک کو جنگ میں دھکیلنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ امریکہ کو توقع تھی کہ اس کے عرب اتحادی ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست شامل ہوں گے، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
عرب ممالک کا یہ مؤقف کہ وہ اس جنگ میں کودنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور سفارت کاری پر زور دے رہے ہیں، انتہائی دانشمندانہ ہے۔ کیونکہ جدید معیشت میں سب سے مہنگی چیز بارود نہیں، بے یقینی ہوتی ہے۔ اور اس بے یقینی کا خاتمہ صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ممکن ہے، نہ کہ جنگ میں کودنے سے۔